خطبات محمود (جلد 26) — Page 361
$1945 361 خطبات محمود زمین پر طرح آج اللہ تعالیٰ کی عظمت لوگوں کے دلوں میں باقی نہیں رہی۔اور حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فقرہ اِس وقت بالکل صادق آتا ہے کہ اے خدا! جس طرح تیری آسمان پر بادشاہت ہے بھی آوے۔4 اس سے یہ مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین پر نہیں۔یا خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت آسمان پر تو چلتا ہے لیکن زمین پر نہیں چلتا۔جس طرح خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت آسمان پر چلتا ہے اسی طرح زمین پر بھی چلتا ہے۔دنیا میں دہر یہ موجود ہیں لیکن وہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے ماتحت چلتے ہیں۔کوئی دہر یہ یہ نہیں کر سکتا کہ زبان کی بجائے ماتھے سے چکھے یا ناک سے سونگھنے کی بجائے کسی اور عضو سے سونگھے۔تو خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت تو ویسا ہی زمین پر ہے جیسا آسمان پر ہے۔اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر لوگوں کے دلوں میں تیری ویسی ہی عظمت قائم ہو جائے جیسی آسمان پر ہے۔یہ مقصد ہر وقت جماعت کے سامنے رہنا چاہیے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور خد اتعالیٰ کی عظمت کو تمام دنیا کے دلوں میں قائم کرنا ہے۔اگر ساری دنیا نیک ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر رکھ لے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو گئی اور ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ورنہ دو چار لاکھ جماعت کی دو تین ارب سے کیا نسبت ہے۔ایسی بھی تو نسبت نہیں جیسے آٹے میں نمک کی ہوتی ہے۔ان کے اموال، ان کی شان و شوکت اور ان کے رسوخ کے مقابلے میں ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں۔پس ہمارے دوستوں کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی چاہیے اور آئندہ مزید مالی اور جانی قربانیوں کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم اور فضل نازل فرمائے۔ہماری دماغی ر طاقتوں میں ترقی دے۔ہماری عقلوں کو تیز کرے اور ہماری علمی حالت درست کرے۔تاکہ ہم اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں جو ہمارے سامنے ہے۔امِيْنَ اللهُمَّ امِینَ۔“ (الفضل 18 ستمبر 1945ء) 1:میکاڈو(Mikado) : جاپانی حکمرانوں کا ٹائٹل (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا جلد 15 صفحہ 475) 2 : بخاری کتاب مناقب الانصار باب ما لَقِيَ النَّبِيُّ عليها الله وَأَصْحَابه 3: اِن يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ طَبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ (الانفال: 66) 4: متی باب 6 آیت:10،9