خطبات محمود (جلد 26) — Page 288
خطبات محمود 288 +1945 بعض مسلمان اخبارات نے بھی اسی حربہ سے کام لیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کو پس پشت ڈال کر اپنے لئے ندامت اور شرمندگی کا سامان مہیا کیا ہے۔مثلاً ایک اخبار گاندھی جی کا وہ لفظ جو ان کے نام کے ساتھ ہوتا ہے یعنی ”مہاتما“ اس کو بدل کر ”مہا طمع “ لکھتا ہے۔یعنی بڑی طمع اور بڑی حرص۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال کے بعد آپس میں کسی سمجھوتہ پر پہنچ جانے کی امید کس طرح کی جاسکتی ہے۔ان باتوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ دلوں میں اختلاف کو جاری رکھنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ورنہ چاہیے تو یہ تھا کہ اس ناکامی کے بعد افسوس اور ندامت کی ایک ایسی رو چل جاتی کہ ہر شخص یہ محسوس کرتا کہ ہندوستان آزادی لینے کے لئے بے تاب نظر آتا ہے مگر بجائے اِس کے کہ اصل معاملہ کے متعلق کسی قسم کا افسوس دل میں پیدا ہوتا، بجائے اس کے کہ اصل معاملہ کے متعلق کسی قسم کی تکلیف دل میں پیدا ہوتی، بجائے اس کے کہ یہ احساس پیدا ہو تا کہ ہم کامیاب نہیں ہوئے اور اہم مقاصد کو اپنے سامنے رکھنے کی بجائے ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اُلجھ کر رہ گئے وہ ایک دوسرے پر گند اُچھالنے لگ گئے ہیں۔اور اس طرح آئندہ کے لئے بھی اس راستہ کو مسدود کر رہے ہیں۔ملک کی یہ اخلاقی حالت جو ہندوؤں اور مسلمانوں نے دکھائی ہے نہایت افسوسناک ہے۔مگر ایسے وقت میں ہم سوائے اس کے کیا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے ملک کی اس مصیبت کو دور کرے۔سب سے بڑی مصیبت تو اخلاق کی خرابی ہے۔اور دوسری مصیبت یہ ہے کہ عظیم الشان مطالب کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے بھی لوگ اس قسم کی قربانیاں نہیں کرتے جس قسم کی قربانیاں انہیں کرنی چاہئیں۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے اس اختلاف میں دونوں طرف سے متضاد باتیں پیش کی جاتی رہی ہیں۔یعنی کانگرس اپنے مسلمہ اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ باتیں نہیں کہہ سکتی تھی جو اس نے کہیں اور بعض باتیں جو مسلم لیگ نے اس موقع پر پیش کیں وہ بھی اصول کے خلاف تھیں۔اسی طرح وہ دعویٰ جو درمیان میں وزیر اعظم پنجاب نے پیش کیا اس دعویٰ کو بھی وہ اپنے مسلمہ اصول کے مطابق پیش نہیں کر سکتے تھے۔یہ تضاد بتاتا ہے کہ حقیقتاً ابھی تک سچی خواہش آزادی کی پیدا نہیں ہوئی۔یا یہ بتاتا ہے