خطبات محمود (جلد 26) — Page 183
+1945 183 (14) خطبات محمود آئندہ کے حالات کے متعلق چند رویا (فرمودہ 27 /اپریل 1945ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بعض باتیں بتائی جاتی ہیں اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان اس سے فائدہ اٹھائے۔لیکن بعض دفعہ لوگ ان باتوں کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کرتے یا پوری طرح ذہن اس طرف نہیں جاتا پھر وہ وقت آنے پر تکلیف اٹھاتے ہیں۔ان دنوں میں دیکھتا ہوں کہ کپڑے کی تکلیف لوگوں کے لئے بہت بڑھ رہی ہے۔یہاں قادیان میں تو شاید لوگوں کو صبر کی عادت پیدا ہو چکی ہے اس لئے یہاں اتنا شور اور واویلا نہیں۔لیکن بیر ونجات میں کپڑے کے متعلق اس قدر تکلیف پیدا ہو چکی ہے کہ بعض جگہ پر گورنمنٹ کے افسروں نے تسلیم کیا ہے کہ مردے بغیر کفن کے دفن کئے گئے ہیں۔گورنمنٹ اپنے کنٹرول کے ماتحت بہت کچھ انتظام تو کرتی ہے اور وہ انتظام ایک حد تک سہولت کا موجب بھی ہوتا ہے لیکن جب کوئی چیز استعمال کرنے والوں سے کم ہو جائے تو پھر مشکلات کا بڑھنا ایک قدرتی امر ہے۔بنگال کے متعلق خبریں شائع ہوئی ہیں کہ کپڑے کی دقت کی وجہ سے بعض عورتوں نے خود کشی کر لی کیونکہ ان کے پہلے کپڑے پھٹ گئے اور ستر ڈھانکنے کے لئے اور کپڑے میسر نہیں آسکے۔اور بعض گھرانوں کے متعلق یہ اطلاعات شائع ہوئی ہیں کہ آٹھ آٹھ دس دس