خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 152

خطبات محمود 152 $1945 وہ مانتے ہیں کہ ہم انہیں مسلمان کہہ کر اپنے نزدیک ان کی عزت کرتے ہیں۔یہ جو باتیں ہیں مجھے علم نہیں کہ یہ ہمارے جلسوں میں کہی بھی گئی ہیں یا نہیں۔یہ تو میں اُس افسر کے بیان کا ذکر کر رہا ہوں کہ اُس نے یہ یہ باتیں کہیں۔ورنہ مجھے یہ علم نہیں کہ ان جلسوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مشیل کرشن کہا گیا یا نہیں۔اور باوانانک صاحب کو مسلمان کہا گیا یا نہیں۔اور لیکھرام کو لیکھو کہا گیا یا نہیں۔لیکن اگر کہا بھی گیا ہو تو اُن گالیوں کے مقابلے میں جو اس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیں یہ لفظ کیا حقیقت رکھتا ہے۔اگر چہ میری تعلیم یہی ہے کہ نرمی سے کام لینا چاہیے اور ہمارے دوست اس رنگ میں نام نہ لیا کریں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا ہے تو اُن کا مقام اور ہے اور ہمارا اور ہے۔وہ حج کے مقام پر تھے اور ہم لوگ اس مقام پر نہیں ہیں۔لیکن اگر کسی نے کہہ بھی دیا ہو تو اُن گالیوں کے مقابلہ میں جو اس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیں اور حضرت مسیح موعو علیہ السلام کو دیں یہ لفظ کیا حقیقت رکھتا ہے۔اگر کوئی موقع آیا تو یہ سب گالیاں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ اگر کسی احمدی نے لیکھو کہہ بھی دیا تو یہ تو اُس کی گالیوں کے مقابلہ میں ہزارواں حصہ بھی نہیں۔999 حصے تو سارے کے سارے بے جواب باقی ہیں۔باقی رہا اس افسر کا یہ کہنا کہ اگر مرزا صاحب کو لیکھو کہا جائے تو احمدی کیا کہیں گے ؟ تو میں اس کے جواب میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کو الہام ہوتا ہے۔اگر آریہ سماجی اعلان کر دیں کہ لیکھرام کو بھی الہام ہو تا تھا اور کہ وید کا الہام آخری الہام نہیں تو گو ہم یہ کہیں گے کہ اُن کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ لیکھرام کو الہام ہو تا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُن کے لیکھو کہنے کو ہم آپ کی بتک نہیں سمجھیں گے۔آخری بات لاؤڈ سپیکر کی ہے۔پانچ سال سے معاندین سلسلہ بازاروں اور گلیوں میں لاؤڈ سپیکر لگا کر جماعت احمدیہ اور اس کے بزرگوں کو گالیاں دیتے چلے آرہے ہیں اور ہم نے بارہا حکام کو توجہ دلائی ہے کہ اس سلسلہ کو روکا جائے۔ڈپٹی کمشنر تک ہی نہیں بلکہ کمشنر کے پاس