خطبات محمود (جلد 26) — Page 131
$1945 131 خطبات محمود دیکھا۔لبنان جانا تو خیال ہی تھا کیونکہ لبنان میں داخل ہونے سے پہلے میں شدید بیمار ہو گیا تھا اور اسی حالت میں تھا جبکہ لبنان کو چھوڑا۔اس لئے لبنان کو میر ادیکھنا نہ دیکھنے کے برابر تھا۔لیکن فلسطین اور شام کو میں نے دیکھا۔فلسطین میں یہودیوں کی اصل آبادی تو دو تین فیصدی تھی۔مگر نقل مکانی کی وجہ سے جس کی غرض یہ ہے کہ چاروں طرف سے یہودیوں کو جمع کر کے لایا جائے اور ان کے آبائی وطن میں ان کو آباد کیا جائے اس کی وجہ سے دو تین فیصدی سے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی دس فیصدی ہو گئی۔اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی کچھ تو یہودیوں کے کثرت سے آجانے سے اور ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ طبقہ مسلمانوں اور عیسائیوں کا ایسا بھی تھا جو فلسطین کے جھگڑے سے ڈر کر شام یا دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہو گیا تھا اس لئے یہودیوں کی آبادی دس فیصدی ہو گئی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی نوے فیصدی رہ گئی تھی۔بہر حال عیسائی اور مسلمان جو اُس وقت متحد تھے اور آج تک بھی متحد ہیں ہم فلسطین میں ان دونوں کی آبادی نوے فیصدی تھی اور یہودیوں کی آبادی دس فیصدی تھی۔قوموں کی حرکت دیکھنے کا ذریعہ اسٹیشن ہوتے ہیں۔جہاں پر لوگ آنے جانے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔اور جہاں پر پتہ لگ جاتا ہے کہ قوم کے اندر کیسی حرکت پائی جاتی ہے۔تجارتیں کرنے والوں کو ادھر اُدھر آنا جانا پڑتا ہے۔ملازمتوں والے بھی اِدھر اُدھر دورے کرتے ہیں۔صنعت و حرفت والوں کو بھی اپنے کام کے لئے دورے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے اسٹیشنوں اور ریلوں کے ذریعہ پتہ لگ جاتا ہے کہ کسی قوم میں آبادی کے لحاظ سے حرکت پائی جاتی ہے یا نہیں۔فلسطین کے ریلوے اسٹیشنوں پر مجھے اس بات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور میں نے آبادی کے لحاظ سے دس فیصدی یہودیوں کو اسٹیشنوں پر نوے فیصدی کی تعداد میں دیکھا۔اور آبادی کے لحاظ سے نوے فیصدی مسلمان اور عیسائی اسٹیشنوں پر دس فیصدی نظر آئے۔یہ کوئی معمولی فرق نہیں بلکہ ایسا فرق ہے کہ شاید خطہ زمین پر اور کسی جگہ نظر نہیں آسکتا۔یہ عجیب بات ہے کہ باقی تمام دنیا میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو ایک سمجھتے ہیں۔لیکن فلسطین کے عیسائی گلی طور پر مسلمانوں کے ساتھ اس بات میں متفق ہیں۔اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہودیوں کو یہاں آباد نہ ہونے دیا جائے۔