خطبات محمود (جلد 26) — Page 122
$1945 122 خطبات محمود جھوٹے مدعیوں کا وجود غلطی خوردہ یا افترا کرنے والا ثابت ہو تا ہے وہاں ساتھ ہی یہ بھی ضرور ثابت ہو تا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے زمانہ میں بنی نوع انسان کو یہ امید ہوتی ہے کہ اب خدا تعالیٰ ضرور روحانی بادل بھیجے گا۔اور سچے نبی کی بعثت سے قبل ان جھوٹے مدعیوں کا دعویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کو ایک بچے نبی کی امید اور آس ہے۔پھر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے بارش آتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح مادی بادل برستے ہیں تو طریق یہ ہے کہ وہ ہر جگہ پر برستے ہیں اور ان کے برسنے سے ہر قسم کی روئیدگی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔بارش ایک ہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اسی بارش سے ایک طرف میٹھے پھل پیدا ہوتے ہیں اور دوسری طرف اسی بارش سے کڑوے پھلوں کو بھی نشو و نما حاصل ہو تا ہے۔1 ایک ہی قطرہ بارش کا جہاں انگور کو زیادہ شیریں بنادیتا ہے، جہاں آم کو زیادہ شیریں بنادیتا ہے، جہاں اور مختلف قسم کے میٹھے پھلوں کو زیادہ شیریں بنادیتا ہے وہاں بارش کا وہی قطرہ کیکر کو اور حنظل کو زیادہ تلخ بنادیتا ہے اور کھٹی چیزوں کو زیادہ ترش بنادیتا ہے۔وہی بارش کا قطرہ جو انسان کے اندر گوشت پیدا کر دیتا ہے وہی قطرہ گھاس کے اندر روئیدگی پید ا کر دیتا ہے۔جنگل میں اُگی ہوئی مختلف قسم کی جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں اور پہاڑوں کی وادیوں میں پیدا ہونے والی بوٹیاں بھی اسی بارش سے اپنی روئیدگی کو ابھار نا شروع کر دیتی ہیں۔تو بارش کا وہی قطرہ جہاں انسان کے اندر تر و تازگی اور نمو پیدا کر دیتا ہے وہاں وہ جنگل میں اُگنے والی ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیوں میں بھی روئیدگی پیدا کر دیتا ہے۔یہی حال انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں ہوتا ہے یعنی جب روحانی بارش آسمان سے آتی ہے تو دونوں قسم کی روئیدگی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ایک طرف سویا ہوا کفر بھی بیدار ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ایمان بھی تر و تازہ ہو جاتا ہے۔کفر بھی اُس زمانہ میں اپنی شان دکھانا شروع کر دیتا ہے اور مخالف لوگوں کے اندر بھی بیداری پید ا ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے آخر مکہ بھی وہی تھا اور عرب بھی وہی تھا لیکن آپ کی بعثت سے قبل عرب کے سرداروں کا کوئی نظام معلوم نہیں ہو تا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد ہم کفار کو بھی منظم اور مشہور عمل پاتے ہیں۔اور وہ