خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 49

$1945 49 خطبات حمود ہمیں ضرورت ہے مڈل پاس یا انٹرنس پاس طالب علموں کی جو فورا سینکڑوں کی تعداد میں آکر مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پھر آٹھ نو سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور مبلغ کام کر سکیں۔ہمیں ضرورت ہے ایسے نوجوانوں کی جو پرائمری پاس یا مڈل پاس ہوں اور ہم انہیں ایک دو سال میں موٹی موٹی تعلیم دے کر بطور دیہاتی مبلغ گاؤں میں مقرر کر سکیں۔پس تین قسم کے آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ایک مڈل پاس طالب علموں کی جو کثرت سے آکر مدسہ احمدیہ میں داخل ہوں۔جن کا کام یہ ہو گا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے عربی ممالک میں جاکر تبلیغ کریں گے۔یا جہاں علمی لوگوں سے مقابلہ ہو گا وہاں جائیں گے۔یا قادیان میں درس دیں گے اور نئی پود تیار کرنے کا کام کریں گے۔دوسرے مڈل یا پرائمری پاس نوجوانوں کی ضرورت ہے جو ایک دو سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور دیہاتی مبلغ کام کریں۔اور تیسرے بعض جگہوں پر فوری طور پر مشن کھولنے کے لئے عربی اور انگریزی گریجوایٹوں کی ضرورت ہے کیونکہ اِس وقت لوگوں کے دل مصائب اور مشکلات کی وجہ سے غمزدہ ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سننے اور خدا کے دین کی طرف متوجہ ہونے کے لے تیار ہیں۔اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ان جگہوں پر ہم فوری طور پر مشن کھولیں اور ان کی اس غم اور مصیبت کی حالت سے فائدہ اٹھائیں۔اگر ہم نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو ہم خدا تعالیٰ کے جاں نثار سپاہی نہیں کہلا سکتے۔غم اور مصیبت کی حالت میں ہی انسان خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اور یہ اور یہ غم کی حالت چار پانچ سال تک رہے گی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد لوگ غم کو بھول جایا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انگریزی حکومت کی خوبیاں بیان فرماتے تو اس پر بعض معترضین اعتراض کیا کرتے تھے۔اس کے جواب میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم نے سکھا شاہی کے زمانہ کا قریب سے مطالعہ نہیں کیا کہ اس میں کس قسم کی مشکلات تھیں لیکن ہم نے اس زمانہ کے آثار کو دیکھا ہے گو اصل کو نہیں اس لئے ہمارے دل میں انگریزی حکومت کی قدر ہے۔پس جن لوگوں نے موجودہ مشکلات اور غم نہیں دیکھے ہوں گے وہ اِس قسم کا درد اپنے اندر نہیں رکھتے ہوں گے جس قسم کا درد ان لوگوں کے دلوں میں ہو سکتا ہے