خطبات محمود (جلد 26) — Page 435
$1945 435 خطبات محمود تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔آجکل ضروریات زندگی کو عمدہ طور پر پورا کرنا علم کے بغیر ممکن نہیں رہا۔میں اپنی جماعت کے متعلق دیکھتا ہوں کہ جماعت کی ابتدائی تعلیم تو اچھی ہے اور اکثر لوگ سلسلہ کی کتب پڑھنے کے لئے اردو سیکھ لیتے ہیں۔جتنی تعداد ہماری جماعت میں لکھے پڑھے لوگوں کی ہے وہ دوسری اقوام میں نہیں پائی جاتی۔دوسری قومیں تو تعلیم میں بہت ہی پیچھے ہیں۔ہندوؤں میں بھی اتنی تعداد پڑھے لکھے لوگوں کی نہیں جتنی ہم میں ہے۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ تعلیم کو اس سے بھی زیادہ بڑھایا جائے۔اور بلحاظ تعلیم کے پھیلاؤ کے اس حد کو اپنے لئے کافی نہ سمجھا جائے۔چونکہ پرائمری تک کوئی خرچ وغیرہ نہیں ہوتا اس لئے زمیندار لوگ اپنے بچوں کو پرائمری تک پڑھا لیتے ہیں اور پھر ان کی تعلیم بند کر دیتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ پہلے جو اپنے بچوں کو پرائمری تک تعلیم دلواتے ہیں وہ کم از کم مڈل تک اور جو مڈل تک تعلیم دلوا سکتے ہیں وہ کم از کم انٹرنس تک اور جو انٹرنس تک پڑھا سکتے ہیں وہ اپنے لڑکوں کو کالج میں تعلیم دلوائیں اور انہیں کم از کم بی اے کرائیں۔چونکہ ہم تبلیغی جماعت ہیں اس لئے ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم سو فیصدی تعلیم یافتہ ہوں۔اور اگر کوئی قوم سو فیصدی تعلیم یافتہ ہونا چاہے تو اس کے لئے لازمی ہے کہ اُس کی کُل تعداد کا چھ فیصدی ہر وقت سکولوں اور کالجوں میں ہو۔اس وقت پنجاب میں ہماری تعداد اڑھائی لاکھ کے قریب ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ پنجاب میں پندرہ ہزار لڑکا ہمارا ہائی سکولوں تک جانا چاہیے۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پندرہ ہیں سال کے اندر اندر تمام جماعت تعلیم یافتہ ہو جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر سال ہمارے ڈیڑھ دو ہزار لڑکے میٹرک پاس کریں۔لیکن موجودہ حالت یہ ہے کہ مشکل سے سو ڈیڑھ سو لڑکے ہر سال میٹرک پاس کرتے ہیں۔اگر یہی رفتار ر ہے جو اس وقت ہے تو پھر پندرہ سال کے بعد ہم بجائے سو فیصدی تعلیم یافتہ ہونے کے دس فیصدی تعلیم یافتہ ہوں گے جو ایک افسوسناک بات ہے۔اور یہ تعداد ایسی نہیں کہ اس پر خوشی کا اظہار کیا جا سکے بلکہ ایسی چیز ہے کہ اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ پندرہ بیس سال کے بعد ہمارا ہر فرد تعلیم یافتہ ہو بلکہ اچھا تعلیم یافتہ ہو۔اگر ہر سال ڈیڑھ دو ہزار طالب علم انٹرنس