خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 432

*1945 432 خطبات حمود ہر قسم کی ترقی علم سے وابستہ ہے۔جیسی ہماری زمین ہے ویسی انگلستان، جرمنی، امریکہ اور دیگر ممالک کی زمین ہے۔لیکن جس رنگ میں وہ فائدہ اٹھاتے ہیں ہم نہیں اٹھاتے اور نہ ہی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان ممالک کا زمیندار نہایت آرام و آسائش کی زندگی بسر کرتا ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔لیکن ہمارا ز میندار سوکھی روٹی کھاتا ہے اور نہایت تنگی سے دن بسر کرتا ہے۔اگر اس کے پاس گر تہ ہے تو تہہ بند نہیں۔اگر تہہ بند ہے تو گر تہ نہیں۔کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک کتاب پڑھی۔جس میں مصنف نے یہ بیان کیا ہے کہ انگلستان میں پانچ ایکٹر زمین پر تین خاندان تین سال تک گزارہ کرتے رہے۔اور پھر تین سال کے بعد ہر ایک کے حصے میں پانچ چھ سو پونڈ آئے۔پانچ ایکڑ زمین پر تین خاندانوں کا گزارہ کرنا اور پھر اتنی رقم کا بچ جانا بڑے تعجب کی بات ہے۔وہ لکھتا ہے کہ تین نوجوانوں نے زراعت کے لئے پانچ ایکڑ زمین ٹھیکے پر لی۔انہوں نے تین سال تک اس زمین میں کا شتکاری کا کام کیا۔اس دوران میں وہ اپنے خاندانوں کا گزارہ بھی اُسی سے کرتے رہے۔تین سال کے بعد جب انہوں نے حساب کیا تو ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں پانچ چھ سو پونڈ یعنی سات آٹھ ہزار روپیہ علاوہ کھانے اور گزارہ کے آیا۔لیکن ہمارے ملک میں پانچ ایکڑ والا زمیندار معمولی کھانے پینے کا گزارہ بھی مشکل سے چلاتا ہے۔تین خاندانوں کا پانچ ایکٹر زمین پر گزارہ کرنا اور پھر ان میں سے ہر ایک کا پانچ چھ سو پونڈ کا حصہ وار ہونا صرف اس وجہ سے تھا کہ کام کرنے والے نوجوان تعلیم یافتہ تھے۔پس تعلیم انسان کی ہر رنگ میں درستی کرتی ہے۔ہماری جماعت کا اکثر حصہ زمیندار ہے۔میں غیر ملکوں سے ہو کر آنے والے دوستوں سے اُن ملکوں کے زمینداروں کے متعلق اکثر پوچھتارہتا ہوں کہ ان ملکوں کے زمینداروں اور ہمارے ملک کے زمینداروں میں کیا فرق ہے۔ان سے حالات سننے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ نہایت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کا وہ لوگ خیال رکھتے اور نہایت معمولی معمولی چیزوں سے بہت بڑا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔لیکن ہمار از میندار اُن باتوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اُن سے دسواں یا بیسواں بلکہ سواں حصہ اپنی زمین سے فائدہ اٹھاتا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جوانی سے ہی ہر قسم کے علموں کے مطالعہ کا شوق رہا ہے