خطبات محمود (جلد 26) — Page 320
$1945 320 خطبات محمود ہیں وہ اتنی عظیم الشان نہ تھیں جنہیں دیکھ کر رونا آتا ہو لیکن اٹامک بم سے جو بمباری کی گئی ہے اخبارات والے لکھتے ہیں کہ اس بمباری کی تباہی کو دیکھ کر واقع میں رونا آتا ہے۔اس بم کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چالیس چالیس میل تک کے علاقہ کو تباہ کر سکتا ہے۔یہ صاف بات ہے کہ جہاں یہ بم گرے گا اُن جگہوں کو دیکھ کر رونا آئے گا۔مگر جن جن علاقوں پر وہ گرے گا جہاں وہ اپنی تباہی کی طاقت پر شہادت دے رہا ہو گا اور اپنے بنانے والوں کے ہنر کی توصیف کر رہا ہو گا وہاں ہر تباہ شدہ علاقہ اور ہر تباہ شدہ ملک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کی گواہی بھی ساتھ دے رہا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوائی جہاز بھی نہ تھے کہ ان کے ذریعہ بمباری کی جاتی۔آپ کے بعد ہی ہوائی جہاز نکلے۔پھر اس کے بعد ہوائی جہازوں سے گرانے والے بم نکلے۔اور اس کے بعد اب یہ اٹامک بم نکل آئے ہیں جو حجم میں بالکل چھوٹے ہوتے ہیں لیکن دو ہزار سُپر فورٹرس (Super Fortress) 6 کی بمباری کے برابر ایک بم کا اثر ہوتا ہے۔دو ہزار سُپر فورٹرس کی بمباری میں ہزار ٹن کے برابر ہوتی ہے یا ہمارے ملک کے حساب سے پانچ لاکھ ساٹھ ہزار من ڈائنامیٹ پھینکنے کے برابر اس ایک بم کا پھینکنا ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ جہاں جہاں یہ بم گریں گے وہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہو گی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی عظیم الشان طور پر پوری ہو گی کہ ”شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا۔“ جب کبھی مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ غم کا پہلو نکالتا ہے تو ساتھ ہی خوشی کا پہلو بھی پیدا کر دیتا ہے۔ہمیں غم ہے کہ دنیا اُس رستے پر چل رہی ہے جو اسے تباہی اور ہلاکت کی طرف لے جانے والا ہے۔لیکن ساتھ ہی خوشی بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی پوری ہو کر ہمارے لئے زیادتی ایمان کا موجب ہوئی۔اور ہمیں مزید یقین دلاتی ہے کہ جس طرح یہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے ویسے ہی وہ پیشگوئیاں بھی اپنے وقت پر پوری ہوں گی جن میں اسلام اور سلسلہ کے غلبہ کی خبر دی گئی ہے۔اور ایک زمانہ اسلام پر ضرور آئے گا جب وہ تمام دنیا پر غالب ہو گا۔ہم نہیں جانتے کہ اس کے بعد دنی تباہ ہو گی یا باقی رہے گی لیکن اسلام کے غلبہ سے پہلے دنیا تباہ نہیں ہو گی۔لوگ ایک دوسرے کو مارنے اور تباہ کرنے کی کوشش