خطبات محمود (جلد 26) — Page 299
$1945 299 خطبات محمود کسی انسان کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کے اندر ضرور کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے۔یا اس کی انتڑیوں میں نقص ہے یا معدہ میں نقص ہے یا جگر میں پھوڑا ہے یا پتہ میں پتھری ہے یا گردہ میں پتھری ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی پیٹ درد کی وجہ ہو گی۔اسی طرح جب لڑائی ہو جاتی ہے یا تفرقہ اور شقاق کی کوئی صورت رو نما ہوتی ہے۔تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بات ہوتی ہے۔بعض دفعہ وہ بات اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے۔مگر بہر حال چونکہ وجہ موجود ہوتی ہے اس لئے جب تک اس کا ازالہ نہ کیا جائے تفرقہ اور شقاق دور نہیں ہو تا۔میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو میں مکمل کر دوں۔ایک دیوار انصار اللہ ہیں۔دوسری دیوار خدام الاحمدیہ ہیں اور تیسری دیوار اطفال الاحمدیہ ہیں اور چوتھی دیوار بجنات اماء اللہ ہیں۔اگر یہ چاروں دیواریں ایک دوسری سے علیحدہ علیحدہ ہو جائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکے گی۔عمارت اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب اُس کی چاروں دیوار میں آپس میں جڑی ہوئی ہوں۔اگر وہ علیحدہ علیحدہ ہوں تو وہ چار دیواریں ایک دیوار جتنی قیمت بھی نہیں رکھتیں۔کیونکہ اگر ایک دیوار ہو تو اُس کے ساتھ ستون کھڑا کر کے چھت ڈالی جاسکتی ہے لیکن اگر ہوں تو چار دیوار میں لیکن چاروں علیحدہ علیحدہ کھڑی ہوں تو اُن پر چھت نہیں ڈالی جاسکے گی۔اور اگر اپنی حماقت کی وجہ سے کوئی شخص چھت ڈالے گا تو وہ گر جائے گی کیونکہ کوئی دیوار کسی طرف ہو گی اور کوئی دیوار کسی طرف۔ایسی حالت میں ایک دیوار کا ہونا زیادہ مفید ہو تا ہے بجائے اس کے کہ چار دیواریں ہوں اور چاروں علیحدہ علیحدہ ہوں۔پس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہئے۔اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ کے سامنے تو وہ جواب دہ ہوں گے ہی۔میرے سامنے بھی وہ جواب دہ ہوں گے یا جو بھی امام ہو گا اس کے سامنے انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لئے مہیا کئے ہیں۔اس لئے مہیا نہیں کئے کہ جماعت کو جو طاقت پہلے سے حاصل ہے اُس کو بھی ضائع کر دیا جائے۔“ (الفضل 30 جولائی 1945ء) 66