خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 21

+1945 21 خطبات محمود۔آواز کانہ ہندوستان پر اثر ہو سکتا ہے اور نہ انگلستان پر اثر ہو سکتا ہے۔ہندوستان تک تو ایک حد تک میری یہ آواز پہنچ بھی سکتی ہے۔گو زبر دست طاقتیں اور زبر دست قوتیں اسے سن کر ہنس دیں گی اور کہیں گی کہ لوجی مینڈ کی کو بھی زکام ہو گیا۔یہ چھوٹی سی جماعت جس کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہندوستان کو نصیحت کرنے نکلی ہے۔لیکن انگلستان تک تو میری آواز شاید پہنچنی بھی مشکل ہے۔سوائے اس کے کہ ہمارے انگلستان کے مبلغ کے ذریعہ کسی حد تک پہنچ سکے۔مگر میں نے یہ باتیں اس لئے بیان کر دی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرمایا ہے کہ تو اپنی باتیں لوگوں کو سنادے 1 اِس سے اور نہیں تو ان پر حجت تمام ہو جائے گی۔سو میں نے بھی یہ باتیں اس لئے بیان کر دیں تا خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا پر حجت تمام ہو جائے اور لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ انہیں وقت پر خطرات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور وقت پر صحیح طریق اختیار کرنے کی نصیحت نہیں کی گئی۔اور دوسرے یہ باتیں میں نے اس لئے بیان کر دی تھیں کہ قرآن کریم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ 2 بعض دفعہ کمزور آوازیں بھی اثر پیدا کر دیا کرتی ہیں اور بعض دفعہ اس سے بھی لوگ نصیحت حاصل کر لیا کرتے ہیں۔خدائی جماعتیں تبلیغی جماعتیں ہوتی ہیں۔پس اگر ہماری جماعت کے لوگ بیعت کے صحیح مفہوم کو سمجھیں اور اپنے فرائض کو ادا کرنے کا خیال رکھیں تو ضروری ہے کہ امام کی آواز کو ہر احمدی خواہ وہ ہندوستان کا رہنے والا ہو یا انگلستان کا یا امریکہ کا یا افریقہ کا اور یاکسی اور ملک کا دہرانے لگے گا اور اپنے اپنے حلقہ میں اسے پھیلانے کی پوری کوشش کرے گا اور جب ہر احمدی ایسا کرے گا تو لازمی بات ہے کہ وہ آواز ہزاروں لاکھوں سے گزر کر کروڑوں انسانوں کے کانوں تک پہنچے گی۔اور ہماری جماعت ہندوستان میں بھی ہے، پنجاب کے اضلاع میں بھی کثرت سے ہے، سندھ میں بھی ہے، صوبہ سرحد میں بھی ہے، یوپی، بہار، سی۔پی، بمبئی، مدراس میں بھی ہے، اڑیسہ میں بھی ہے ، بنگال میں بھی ہے اور آسام میں بھی ہے، مختلف ریاستوں میں بھی ہے۔کسی میں کم اور کسی میں زیادہ۔اور میری آواز کا اثر اگر غیروں پر نہیں و سکتا تو اپنی جماعت کے لوگوں پر تو ہو سکتا ہے اور جب جماعت کے لوگ جو ملک کے مختلف صوبوں اور ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں اگر دیانتداری سے اپنے فرض بیعت کو ادا