خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 278

+1945 278 خطبات محمود کہ تم میں سے ہر ایک نے میرا انکار کیا مگر ابو بکر ایسا تھا جس میں میں نے کوئی کجی نہیں دیکھی۔مگر دوسرے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلے تھے۔اب جوانی میں انسان کے جو خیالات ہوتے ہیں اگر ان کے مطابق حضرت عمرؓ سے سلوک کیا جاتا اور فرض کرو کہ اُس وقت مسلمانوں کے پاس طاقت ہوتی اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں کام ہوتا اور حضرت عمر کو مار ڈالتے تو حضرت عمرؓ کو مار نا صرف عمر کا مارنا نہ ہوتا بلکہ ساری دنیا کو مار دینے کے مترادف ہو تا۔کیونکہ جس قسم کے تغیرات حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہوئے اور جس قسم کا کام حضرت عمرؓ نے کیا ایسا کام دنیا میں بہت کم انسانوں نے کیا ہے۔پس اگر یہی فیصلہ ہوتا کہ چونکہ حضرت عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ہے اِس لئے اُن کو قتل کر دیا جائے تو دنیا ایک نہایت ہی قیمتی وجود سے محروم ض ہو جاتی۔اسی طرح حضرت خالد بن ولید جو اسلامی فتوحات کے بڑے بھاری موجب ہیں اور انہوں نے اسلام کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کیں اور سالہا سال تک رات دن اپنے آپ کو موت میں ڈال کر اسلام کی خدمت کی یقیناً ان کو بھی نوجوانوں کے فیصلہ کے ماتحت مار دیا جاتا۔حضرت عمرو بن العاص کی موت کا فتویٰ بھی صادر کیا جاتا۔عکرمہ بن ابی جہل جس نے بعد کی قربانیوں کی وجہ سے دنیا کے لئے ایثار کی ایک بہترین مثال قائم کر دی اسے بھی قتل کر دیا جاتا۔اور اگر ایسا ہو تا تو یہ لوگ جنہوں نے اسلام کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کیں اور جو اسلام کی تاریخ میں روشن ستاروں کی طرح نظر آتے ہیں اور جن پر مسلمان آج بجاطور پر فخر کرتے ہیں نہ اسلام کے لئے قربانیاں کرتے اور نہ مسلمان ان ہستیوں پر فخر کر سکتے۔تو جوانی میں جہاں قوت عملیہ پائی جاتی ہے وہاں بوجہ اس خیال کے کہ دنیا غلطی کر رہی ہے میں اس غلطی کو درست کروں گا۔اور بوجہ اس کے کہ اس درست کرنے کے ساتھ دوسرا پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ جو چیز بگڑی ہوئی ہے اُسے توڑ ڈالوں بعض نوجوان دیوانگی کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور دنیا کو بڑے بڑے فوائد سے محروم کر دیتے ہیں۔اس کے بعد بڑھاپا آتا ہے۔بعض دفعہ بڑھاپا ایسا ہوتا ہے کہ انسان سیکھا سکھایا