خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 270

$1945 270 خطبات محمود لائے جو سب سے بڑے تھے۔اسی طرح مسیح کا حال ہے کہ عیسویت کے مقام کی ابتداء کرنے کی وجہ سے وہ سب سے بڑے مسیح نہیں بلکہ جس طرح آدمیت کا کمال بعد میں ہوا اسی طرح عیسویت کا کمال بھی بعد میں آنے والے بعض وجودوں سے ہو گا۔حضرت آدم پہلے آدمی ہونے کی وجہ سے تقدم زمانی رکھتے ہیں۔لیکن مقام کے لحاظ سے کیا نسبت ہے حضرت آدم کو حضرت نوح سے ، کیا نسبت ہے حضرت ابراہیم سے، کیا نسبت ہے حضرت موسیٰ سے اور کیا نسبت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی طرح ہم نے مقام مسیحیت کو کُن کہا ہے۔اب اس سے مسیح پیدا ہوتے جائیں گے۔اور بعض ان میں سے ایسے ہوں گے جو پہلے مسیح سے بڑھ جائیں گے آدم کے بعد آنے والے سب آدم سے چھوٹے اور ادنی نہیں تھے بلکہ آدم سے ادنی بھی تھے اور آدم سے بڑھ کر بھی۔اسی طرح مسیح کے بعد آنے والے مسیح سے ادنی درجہ کے بھی ہوں گے اور اعلیٰ درجہ کے بھی ہوں گے۔جیسے ہم نے آدم کو پیدا کر کے کہا کہ اب تیری نسل چلے ایسا ہی ہم نے مقام عیسویت کو پیدا کر کے کہا کُن فیکون کہ اب عیسوی صفات رکھنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں۔حضرت آدم کے متعلق بھی خدائی کا شبہ ہو سکتا تھا کیونکہ وہ بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے لیکن آگے ان کی نسل کے چلنے کی وجہ سے یہ شبہ جاتا رہا۔ایسے ہی مسیح بے شک بن باپ کے پیدا ہوئے لیکن اگر ایک وجود بھی ایسا ہو جائے جو مثیل مسیح ہو بلکہ مسیح سے بڑھ کر ہو تو مسیح کی الوہیت باطل ہو جاتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کے بعد ان کے مشیلوں کا ایک سلسلہ چل پڑا جس طرح آدم کی نسل سے بعض چھوٹے آدم ہوئے اور بعض بڑے آدم ہوئے اسی طرح مسیح کے بعد بعض چھوٹے عیسیٰ ہوئے اور بعض بڑے ہوئے۔حضرت معین الدین چشتی فرماتے ہیں: دم بدم روح القدس اندر معینے مے دمد من نے گویم مگر من عیسی ثانی شدم 2 یعنی روح القدس ہر وقت میرے کان میں یہ بات کہہ رہا ہے کہ تو عیسی ثانی ہے۔پس معین الدین صاحب چشتی عیسوی مقام پر تھے اور عیسی کی الوہیت کو رڈ کرنے والے تھے کہ