خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 239

$1945 239 خطبات محمود ہے۔لیڈر ہونا اور بات ہے لیکن کام عوام الناس کیا کرتے ہیں۔ہٹلر نے انگلستان سے لڑائی کی اور بے شک بڑی جرات اور بہادری دکھلائی مگر لڑا ہٹلر نہیں بلکہ جرمن قوم لڑی۔سٹالن نے بے شک ایک اعلیٰ مہارت جرنیل کی دکھائی اور لوگ سٹالن کی تعریف کرتے ہیں لیکن سٹالن، سٹالن نہیں بن سکتا تھا جب تک روس کا ہر آدمی بہادر اور دلیر نہ ہوتا۔انگلستان میں مسٹر چرچل نے بے شک بڑا کام کیا ہے لیکن مسٹر چرچل کیا کام کر سکتے تھے اگر ہر انگریز اپنے اندر وہ اخلاق نہ رکھتا جو عام طور پر انگریزوں میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح مسٹر روز ویلٹ کو بھی بڑی عزت اور شہرت حاصل ہوئی۔مگر ان کو عزت اور شہرت اسی وجہ سے حاصل ہوئی کہ امریکن لوگوں نے قربانی کی ایک بے نظیر روح دکھائی۔ہندوستان میں بھی بے شک گاندھی جی کو اونچا کرنے کے لئے لوگ کتابیں لکھتے اور تقریریں کرتے ہیں لیکن کوئی اکیلا گاندھی یادو در جن گاندھی یا بیس در جن گاندھی یا ہزار گاندھی بھی ہندوستان کو آزاد نہیں کراسکتا جب تک عوام الناس میں آزادی کی روح پیدا نہ ہو۔پس صرف گاندھی اور نہرو کو دیکھ کر یہ خیال کر لینا کہ ہندوستان ترقی کر رہا ہے ، محض حماقت ہے۔چند بڑے بڑے لیڈروں کی وجہ سے یہ سمجھ لینا کہ ہندوستان میں آزادی کی روح پید اہو گئی ہے ویسی ہی جہالت کی بات ہے جیسے بلی کبوتر پر حملہ کرتی ہے تو وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں امن میں آگیا ہوں۔جب تک ہندوستان کے عوام الناس کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے، جب تک ہندوستان کے مزدوروں کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے، جب تک ہندوستان کے زمینداروں کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے اور جب تک ہم ان میں بیداری اور حرکت پیدا نہیں کر لیتے اُس وقت تک نہ ہندوستان آزاد ہو سکتا ہے نہ ہندوستان حقیقی معنوں میں کوئی کام کر سکتا ہے۔اور یہ آزادی پیدا نہیں ہو سکتی جب تک موجودہ دور بدل نہ جائے۔جب تک ہندوستانیوں کے ذہن سے یہ نکل نہ جائے کہ ہم غلام ہیں۔جس دن ہندوستانیوں کے ذہن سے غلامی کا احساس نکل جائے گا اُس دن ان میں تعلیم بھی آجائے گی، ان میں جرآت اور دلیری بھی پیدا ہو جائے گی اور ان میں قربانی اور ایثار کی روح بھی رونما ہو جائے گی۔جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں کسی کا غلام ہوں تو وہ کہتا ہے مجھے کیا زمین اُلٹی ہو یا سیدھی، آسمان گرے یا قائم رہے فائدہ تو مالک کو