خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 232

+1945 232 19 خطبات محمود ہندوستان کے سیاسی لیڈروں کے نام پیغام فرمودہ 22 جون 1945ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قریباً ساڑھے پانچ ماہ کا عرصہ ہوا کہ اسی مقام پر میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں انگلستان اور ہندوستان کو میں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ انہیں آپس میں صلح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ خدائی تقدیر میں بعض ایسے حادثات مقدر ہیں جن کا علم اُس نے متعدد بار مجھ کو دیا ہے جو آئندہ نہایت ہی خطرناک فتنے پیدا کرنے کا موجب ہونے والے ہیں۔اور نہ صرف خدا تعالیٰ نے مجھے ان حادثات کا علم دیا ہے بلکہ ان کے متعلق بعض تفاصیل بھی اُس نے مجھے بتائی ہیں۔وہ خطبہ گو الہام کی بناء پر نہیں تھا لیکن مختلف الہاموں اور کشوف اور رؤیا کے نتیجہ میں تھا اور اُن کو پورا کرنے کی تحریک کے طور پر ہی میں نے پڑھا تھا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان کو بسا اوقات اپنی زبان بنالیتا ہے۔جس وقت میں نے وہ خطبہ دیا تھا اُس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ہندوستان اور انگلستان کے در میان سمجھوتہ کی کوئی صورت پیدا ہونے والی ہے۔بلکہ ہندوستانی اور انگریز دونوں مایوس نظر آتے تھے اور اس بارہ میں کوئی نیا قدم اٹھانے کے لئے کوئی جہت تیار نہیں تھی۔اُس زمانہ کے قریب قریب عرصہ میں بلکہ غالباً اس کے بعد بھی پارلیمنٹ میں جو سوالات ہوئے ان کے جوابات بھی نہایت مایوس کن تھے اور ہندوستان کے لوگ بھی آئندہ کسی نیک تغیر کے متعلق