خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 223

$1945 223 خطبات محمود کرتا ہوں کہ جو لوگ پہلے دور میں شامل نہیں ہوئے اُن کو اپنی اپنی جگہ پر دوست تحریک کریں۔میں نے اس کی میعاد تو بڑھا دی ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو میعاد اور بھی بڑھا دی جائے گی۔کیونکہ سال دو سال کے اندر ہمیں اس تعداد کو اتنا بڑھا دینا چاہیے کہ پہلے انیس سالہ دور کے خاتمہ پر نئی پود اس بوجھ کو پوری طرح اٹھا سکے۔اگر ہماری جماعت کی ترقی اولاد کی وسعت کے لحاظ سے، اگر ہماری جماعت کی ترقی بیکاروں کے کام پر لگ جانے کے لحاظ سے اور اگر ہماری جماعت کی ترقی تبلیغ کی وسعت کے لحاظ سے اتنی نہیں ہوتی کہ ہر دس سال کے بعد ہم کو ایک نیا دور جاری کرنے کے لئے اتنی جماعت مہیا ہو سکے جو اپنی قربانی سے اس حصہ کے اخراجات کو اٹھا سکے تو یقیناً یہ بات ہماری کمزوری پر دلالت کرنے والی اور ہماری کامیابی کو پیچھے ڈالنے والی ہو گی۔پس ہمارا فرض ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے ہم آئندہ نسل اور آئندہ آنے والے نئے احمدیوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ایک جماعت پانچ ہزاری فوج کی ہر دفعہ کھڑی کرتے رہیں جو پہلے دور کے بعد دوسرے دور کے بوجھ کو اٹھانے والی ہو۔اور دوسرے دور کے بعد تیسرے دور کے بوجھ اٹھانے والی ہو۔اور تیسرے دور کے بعد چوتھے دور کے بوجھ کو اٹھانے والی ہو۔کیونکہ تبلیغ ایسا کام نہیں جو ایک دو دن میں ختم ہو جانے والا ہو۔میں نے بارہا جماعت کو بتایا ہے کہ کوئی قوم قربانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ قربانی کب ختم ہونے والی ہے دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ خد اتعالیٰ ہماری قوم کو مارنے کا فیصلہ کس دن کرے گا۔جو شخص قربانی کے متعلق یہ امید رکھتا ہے کہ وہ ختم ہو جائے گی یا ختم ہو جانی چاہیے وہ دشمن ہے اپنا۔وہ دشمن ہے اپنے خاندان کا۔وہ دشمن ہے اپنی قوم کا۔کیونکہ قربانی قوموں کی زندگی کا معیار ہے۔اور جس دن کسی قوم میں سے قربانی مٹ جاتی ہے اُسی دن اس دنیا سے اُس قوم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔گو اس قوم کے وجود اس دنیا میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقتا وہ بریکار وجو د ہوتے ہیں۔غلام اور محکوم اور ذلیل اور ناکام وجود اگر دنیا میں آرام سے زندگی گزارتے ہیں تو یہ ان کے لئے انعام نہیں ہوتا بلکہ ایک سزا ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے بہتر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندہ دفن کر دیں