خطبات محمود (جلد 26) — Page 221
+1945 221 خطبات محمود سہولتوں کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے یانہ معلوم ایک لمبے عرصہ کی قربانی کی وجہ سے کسی قدر شستی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔بجائے اس کے کہ اس موقع پر جبکہ روحانی جنگ شروع ہونے والی تھی ہمارے حوصلے آگے سے زیادہ بڑھ جاتے اور ہماری قربانیاں آگے سے زیادہ ترقی کر جاتیں۔ہمارا جوش آگے سے بہت اونچا چلا جاتا ہمارے لئے وہ اطمینان اور سکون جو غافلوں اور جاہلوں کو حاصل ہوتا ہے ناممکن ہو جاتا۔اور جیسے کام کرنے والوں کے دلوں میں ایک بے کلی سی پائی جاتی ہے وہ حالت ہماری ہو جاتی جماعت میں ایک رنگ میں سستی کے آثار پائے جاتے ہیں۔جیسے بخار دیکھنے کے لئے تھرما میٹر ہوتا ہے اور تھرمامیٹر سے پتہ لگ جاتا ہے کہ انسانی خون کے دوران میں کتنی تیزی یا کمی ہے اسی طرح جماعت کے قلوب کی حالت کا اندازہ اُس کے چندوں کی ادائیگی سے لگایا جاتا ہے۔تحریک جدید کے گزشتہ سالوں کے حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ بالعموم مئی کے آخر تک 65،60 بلکہ 70 فیصدی تک رقوم وصول ہو جایا کرتی تھیں۔لیکن اس دفعہ بجائے 65،60 یا 70 فیصدی کے بمشکل 40 فیصدی چندہ اِس وقت تک ادا ہوا ہے۔حالانکہ چھ مہینے گزر چکے ہیں اور زیادہ تر چھ مہینوں میں ہی رقمیں زیادہ آیا کرتی ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جلدی چندہ دینے والے وہی ہوتے ہیں جن کے اندر اخلاص زیادہ ہوتا ہے۔اور جن کے اندر اخلاص زیادہ ہو تا ہے وہی قربانی زیادہ کیا کرتے ہیں۔اور جو قربانی زیادہ کرتے ہیں وہی وقت پر اپنے فرائض کو ادا کیا کرتے ہیں۔تو پہلے چھ مہینوں میں چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی۔کیونکہ ہماری جماعت میں سابق رہنے والوں کی خواہش کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔اسی طرح پہلے چھ مہینوں میں ادا شدہ رقوم بھی زیادہ ہوتی تھیں اس لئے کہ وہ لوگ جن کے اندر اخلاص ہوتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ رقوم قلیل سے قلیل عرصہ میں ادا کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔لیکن اس سال بجائے اس کے کہ اس نئے دور میں ایک نئی زندگی پائی جاتی بجائے اس کے کہ اب جبکہ عملی تبلیغ کا دروازہ گھل رہا ہے اور جبکہ کچھ مبلغ بیرونِ ہند میں جا بھی چکے ہیں اور دوسرے پاسپورٹ لینے کی فکر میں ہیں اور جلد ہی غیر ممالک میں چلے جائیں گے۔اور اس طرح تبلیغی بوجھ پہلے سے کئی گنے زیادہ ہو جائے گا۔ہماری جماعت بجائے اس کے کہ