خطبات محمود (جلد 26) — Page 210
+1945 210 خطبات محمود تجاویز پر غور کر کے پھر میں تجاویز کروں گا اور جماعت کے نوجوانوں کو ان کا پابند بنایا جائے گا۔پہلے اسے اختیاری رکھیں گے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون کونسے ماں باپ ہیں جو اپنے بچوں کو سلسلہ کی تعلیم دلانا اور ان کی تربیت کرانا چاہتے ہیں۔اور جس وقت ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا طریق درست ہے تو پھر دوسرا قدم ہم یہ اٹھائیں گے کہ اسے لازمی کر دیا جائے۔بہر حال یہ کام ضروری ہے اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو احمدیت کی مثال اس دریا کی ہوگی جو ریت کے میدان میں جا کر خشک ہو جائے۔اور جس طرح بعض بڑے بڑے دریا صحراؤں میں جا کر اپنا پانی خشک کر دیتے ہیں پانی تو ان میں اُسی طرح آتا ہے مگر صحرا میں جا کر خشک ہو جاتا ہے۔چھوٹی چھوٹی نالیاں پہاڑوں سے گزرتی ہوئی میلوں میل تک چلی جاتی ہیں مگر بڑے بڑے دریاریت کے میدانوں میں جا کر خشک ہو جاتے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے اندر معرفت کا دریا بہہ رہا ہے۔اگر تم میں سستی، کم محنتی اور غفلت کا صحرا پیدا ہو گیا تو یہ دریا اس کے اندر خشک ہو کر رہ جائے گا۔چھوٹی چھوٹی ندیاں مبارک ہوں گی جو پہاڑوں کی وادیوں میں سے گزر کر میلوں میل تک چلتی چلی جاتی ہیں مگر تمہارا دریانہ تمہارے لئے مفید ہو گا اور نہ دنیا کے لئے مفید ہو گا۔پس یہ آفت اور مصیبت ہے جس کو ٹلانا ضروری ہے۔اس آفت کو دور کرنے کے لئے پہلے میں جماعت کے دوستوں سے فرداً فرداً اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے بحیثیت جماعت مشورہ چاہتا ہوں۔انصار اللہ سے اِس لئے کہ وہ باپ ہیں اور خدام الاحمدیہ سے بحیثیت نوجوانوں کی جماعت ہونے کے کہ ان پر ہی اس سکیم کا اثر پڑنے والا ہے۔اور ہر فرد سے جس کے ذہن میں کوئی نئی یا مفید تجویز ہو پوچھتا ہوں کہ وہ مجھے مشورہ دے۔پھر میں ان سب پر غور کر کے فیصلہ کروں گا کہ آئندہ نسل کی اصلاح کے لئے ہمیں کو نسا قدم اٹھانا چاہیے۔“ الفضل مورخہ 11 مئی 1945ء) 1: جنیں : وہ بٹا ہوا دھاگا جسے ہند ولوگ بدھی کی طرح گلے میں ڈالے رہتے ہیں۔2: متی باب 17 آیت 20