خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 185

+1945 185 خطبات محمود ہونے والا ہے وہاں میں جماعت کا شکوہ تو نہیں کرتا لیکن افسوس ضرور ہے کہ اس خواب سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔شکوہ میں اس لئے نہیں کرتا کہ خود میرا ذہن بھی اس قسم کی کمی کی طرف نہیں گیا تھا کہ کپڑے کی دقت اِس قسم کی ہونے والی ہے کہ بعض علاقوں میں مردے بغیر کفن کے دفن کئے جائیں گے۔بہر حال میں نے جماعت کو توجہ دلا دی تھی اور میں نے اپنے گھروں میں بھی کہا تھا کہ چرنے منگوا کر رکھو اور سوت کات کر کپڑا بنوایا کرو۔تاکہ اگر تمہیں دقت پیش نہ آئے تو کم از کم غرباء کے لئے ہی کپڑا مہیا کر سکو۔لیکن میں افسوس سے کہتا ہوں کہ ہمارے گھر میں بھی پوری طرح اس پر عمل نہیں کیا گیا گوچر نے تو منگوا لیے مگر سوت کاتنے کا کام اُس وقت رؤیا کے ماتحت شروع نہیں ہوا بلکہ اب آکر شروع ہوا ہے۔جب یہ کام رویا کے ماتحت نہیں کہلا سکتا بلکہ عملاً کپڑے کی کمی ہو جانے کی وجہ سے ہے۔چونکہ یہ زمانہ بظاہر ابھی چھ ماہ یا سال دو سال تک ممتد معلوم ہوتا ہے اس لئے اب بھی جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے ان کو چاہیے کہ عورتیں گھروں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے چرخے رکھیں اور شوت کات کر جلا ہوں سے کپڑے بنوالیں۔ہمارے علاقہ ضلع گورداسپور میں سوت کا کپڑا بننے کا رواج کم ہے۔حالانکہ ایسی کھڈیاں نکل آئی ہیں جن سے اچھے سے اچھا کپڑا بنا جا سکتا ہے۔اگر ہمارے کسی دوست کو خدا تعالی توفیق دے تو ہمارے ضلع کا سوت کا کوٹہ جو رائیگاں چلا جاتا ہے یا دوسرے ضلع والے اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں یا یہاں کے لوگ دوسرے ضلعوں کے پاس مہنگے بھاؤ فروخت کر دیتے ہیں یا لوگوں کی بے پرواہی کی وجہ سے ہمارا ضلع اپنے حق کا مطالبہ ہی نہیں کرتا تو اگر ہمارے دوستوں میں سے کسی کو توفیق ملے تو یہ بھی اچھی تجارت ہے کہ کپڑا بننے کی کھڈیاں لگا لی جائیں اور شوت کا جو کوٹہ ملتا ہے اُس سے فائدہ اٹھایا جائے۔گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ ضلع وار سوت تقسیم کیا جائے۔میں نہیں جانتا ہمارے ضلع کو کیا ملتا ہے یا ہمارا ضلع لیتا بھی ہے یا نہیں لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے ضلع کا حق نامنظور کیا جائے۔اگر اس قسم کے کار خانے والے زور دیں تو بہر حال پہلے اگر نہیں بھی ملتا تو آئندہ اس ضلع کا حق دینے سے گور نمنٹ انکار نہیں کرے گی۔