خطبات محمود (جلد 26) — Page 77
$1945 77 خطبات محمود قربانی میں حصہ لیں۔ا پس اس سکیم سے میر ا منشاء یہ تھا کہ یہ سلسلہ قیامت تک چلتا چلا جائے اور جوں جوں ہماری تبلیغ بڑھتی جائے اور کام وسیع ہوتا جائے ساتھ ہی ساتھ اس کام کو چلانے کے لئے بھی سامان بھی پیدا ہوتے چلے جائیں۔چنانچہ اس سکیم کے ماتحت میں نے تحریک کی تھی کہ جو لوگ پچھلے دس سالوں میں حصہ لیتے رہے ہیں وہ آئندہ نو سال تک حصہ لیں اور انیس سال کا دور پورا کریں۔اور گیارھویں سال کا چندہ کم از کم نویں سال کے برابر ضرور دیں۔میں سمجھتا تھا کہ کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے کہ اگر ان کے حالات اجازت نہ دیں تو وہ کم از کم نویں سال کے برابر تو ضرور دیں گے اور کچھ مخلصین ایسے بھی ہوں گے جو دسویں سال کے برابر یا اس سے زیادہ دیں گے اور اس طرح ہمارا سلسلہ تحریک جدید کی اتنی رقم پیدا کرتا رہے گا کہ جو رقم تبلیغ کی اس سکیم کے بوجھ کو اٹھالے گی۔کیونکہ نویں سال دولاکھ کے قریب کے وعدے وصول ہوئے تھے۔تو اگر گیارہویں سال اڑھائی لاکھ کی آمد ہو تو تبلیغ کی سکیم پر جو اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ کی رقم خرچ ہو گی وہ اس سے نکل آئے گی۔اور اگر کسی وقت کچھ کمی رہی تو وہ نئی پانچ ہزاری فوج کی رقم سے ادا کی جاسکے گی۔پھر جس وقت دفتر اول والوں کے انیس سال پورے ہو جائیں گے تو دفتر دوم والوں کے ابھی دس سال باقی ہوں گے اور وہ منظم ہو کر اس بوجھ کو اٹھالیں گے۔اور جو کمی رہ جائے گی اس کو پورا کرنے کے لئے دفتر سوئم والے آجائیں گے۔اور پھر جب دفتر دوئم والوں کے انیس سال پورے ہو جائیں گے تو اُس وقت دفتر سوئم والوں کے ابھی دس سال باقی ہوں گے وہ اس بوجھ کو اٹھا لیں گے۔اور جو کمی رہ جائے گی اس کو پورا کرنے کے لئے دفتر چہارم والے آجائیں گے اور اس طرح جماعت کی قربانی کا سلسلہ قیامت تک چلتا جائے گا۔یہ سکیم میرے ذہن میں تھی جہاں تک ابتدائی حصہ نے حصہ لیا ہے واقع میں ان کی قربانی بہت شاندار تھی۔ان ابتدائی حصہ لینے والوں میں بالعموم ایسے تھے جنہوں نے دسویں سال سے بڑھا کر وعدے کئے۔اور تھوڑے ایسے تھے جنہوں نے نویں سال کے برابر وعدے کئے۔پھر ان وعدہ کرنے والوں میں سے چونکہ بعض فوت بھی ہو جاتے ہیں، بعض کی پنشن ہو جاتی ہے اس بات کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔کیونکہ اس وجہ سے بھی وصولی کے وقت آٹھ دس