خطبات محمود (جلد 26) — Page 43
$1945 43 خطبات محمود مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی۔حقیقی تبلیغ تو قرآن مجید جاننے سے ہی ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا 1۔یعنی عظیم الشان جہاد قرآن مجید کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے۔اگر کسی شخص کو معلوم ہی نہیں کہ قرآن مجید میں کیا لکھا ہے تو وہ تبلیغ کیا کرے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت میں قرآن مجید سیکھنے کا شوق ہے۔اس دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر عورتوں میں تقریر کرتے وقت میں نے کہا کہ جو عورتیں قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کتنی عورتیں ہیں جنہیں قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہے۔میں سمجھتا تھا کہ ایک دو فیصدی عورتیں قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوں گی۔مگر میری حیرت کی حد نہ رہی کہ آٹھ دس فیصدی عورتیں کھڑی ہو گئیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی تھیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں قرآن مجید سیکھنے کی خواہش تو ہے مگر جب تک وہ خواہش عملی جامہ نہ پہن لے اُس وقت تک صحیح تبلیغ کس طرح ہو سکتی ہے اور اپنا ایمان کس طرح مضبوط ہو سکتا ہے۔قرآن مجید کے معنے ہیں ایمان۔اور ایمان کے معنے ہیں قرآن مجید۔بسم اللہ سے لے کر والناس تک سارے قرآن میں ایمان کی تشریح ہے۔اگر کسی شخص کو قرآن مجید کا پتہ ہی نہیں تو وہ کس طرح کہتا ہے کہ اس کے اندر ایمان پایا جاتا ہے۔ایمان تو قرآن مجید کے مضمون کو ماننے کا نام ہے۔اگر ایک شخص اپنے کسی دوست سے کہے کہ میں تمہیں ایک بات بتا تا ہوں تم وہ بات مان لو۔اور وہ اس بات کو سنے بغیر ہی کہہ دے کہ بہت اچھا میں نے تمہاری بات مان لی ہے تو وہ یقیناً معقول آدمی نہ کہلا سکے گا کیونکہ جب اُس نے اس کی بات کو سنا ہی نہیں کہ وہ ہے کیا تو پھر یہ مانتا کس چیز کو ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص قرآن مجید کو پڑھتا نہیں، اس کے مضامین کو اپنے ذہن میں مستحضر نہیں کرتا اور ان پر غور نہیں کرتا تو پھر یہ ایمان کس چیز پر لاتا ہے۔پس در حقیقت قرآن مجید کو ماننے کا نام ایمان ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو وحی نازل ہوئی۔اس کو ماننے کا نام ایمان ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ جو باتیں خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہیں اور ان کے متعلق جو تفصیلات رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان فرمائیں ان