خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 491

$1945 491 خطبات محمود تھوڑی تنخواہ ملتی ہو یا بہت۔مثلاً ایک شخص کو فوج میں اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ ملا کرتی تھی لیکن اب اُسے پچاس روپے ملتی ہے۔تو اب اُس کا چندہ پچاس روپے ہو جائے گا نہ کہ اڑھائی سو روپیہ۔ہاں اُس کا فرض ہو گا کہ وہ اپنی موجودہ تنخواہ کے لحاظ سے ہر سال کچھ نہ کچھ اضافہ کرتا چلا جائے۔آج میری صحت خراب تھی اور میری بیماری مجھے یہاں آنے کی اجازت نہ دیتی تھی۔لیکن اس کے باوجود میں آ گیا ہوں یہ سمجھتے ہوئے کہ کیا پتہ ہے کہ اگلے سال کی تحریک کے اعلان کرنے کا مجھے موقع ملے یا نہ ملے۔اس لئے جتنا حصہ بھی اس تحریک کے ثواب کا اپنی زندگی میں لے سکتا ہوں لے لوں۔چنانچہ میں آج تحریک جدید کے بارھویں سال کا اعلان کرتا ہوں اور وہ دوست جنہوں نے اب تک اس میں حصہ نہیں لیا اُن سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی دفتر دوم میں اپنا وعدہ جلد سے جلد لکھوا دیں۔اور جو دوست اول یا دفتر دوم میں پہلے سے حصہ لے رہے ہیں وہ پہلے سے بڑھ کر حصہ لیں۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ایسا موقع نہ سینکڑوں سال میں پہلے کسی جماعت کو ملا ہے اور نہ آئندہ ملے گا۔اس وقت اسلام کا جھنڈا بلند کرنا ہماری جماعت کے سپر د کیا گیا ہے۔اور اسلام کا جھنڈا تمام دنیا میں بلند نہیں کیا جا سکتا جب تک دوبارہ اس کے سپاہیوں میں وہی روح پیدا نہ ہو جائے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں پائی جاتی تھی اور جس کی مثالیں میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔اسی طرح جو لوگ پہلے بیکار تھے لیکن اب ملازم ہو چکے ہیں یا انہوں نے کوئی اور کاروبار شروع کیا ہوا ہے اُن کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے دفتر دوم میں حصہ لیں۔ساتھ ہی میں دفتر والوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ دفتر دوم کو مکمل کرنے اور اس کے وعدوں کو دو تین لاکھ تک پہنچانے کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ ہمارا کم سے کم خرچ ہے جو ممکن ہے دو تین سال میں پانچ چھ لاکھ تک پہنچ جائے۔اگر دفتر دوم کے وعدے کم از کم تین لاکھ تک پہنچ جائیں تو پھر ہم سہولت کے ساتھ اپنی سکیموں کو جاری کر سکتے ہیں۔اب جنگ ختم ہو گئی ہے اور غیر ممالک میں جانے کے لئے لوگوں کو سہولتیں مل رہی ہیں۔ہمارے نو مسلغ اِس وقت تک باہر جاچکے ہیں اور پندرہ سولہ کے قریب تیار بیٹھے ہیں جو