خطبات محمود (جلد 26) — Page 474
$1945 474 خطبات حمود آیا۔وہ رئیس جس نے ان کو پناہ دی تھی وہ بھی اس مجلس میں موجود تھا۔لیکن وہ کیا کر سکتا تھا سارا مکہ ایک طرف تھا اور وہ ایک طرف۔اگر وہ مقابلہ کے لئے کھڑا بھی ہوتا تو نہ صرف مکہ کے رؤسا بلکہ باہر کے تمام رؤسا بھی اُس کے خلاف ہو جاتے کیونکہ اس مجلس میں تمام عرب کے سردار جمع تھے۔دوسری طرف وہ محبت جو اپنے دوست اور دوست کے بیٹے سے تھی اُس کی وجہ سے اُسے یہ نظارہ دیکھنے کی تاب نہ رہی اور چونکہ وہ ان رؤسا کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا اس لئے جیسے کسی نوکر کا بچہ آقا کے بچے سے لڑ پڑے تو نو کر ماں ہمیشہ اپنے بچے کو ہی مارتی ہے کہ میں نے جو تجھے منع کیا تھا کہ وہاں نہ جایا کر پھر تو کیوں گیا؟ جب اس کی بے بسی اور بے کسی اسے مارنے والے کے مقابلہ میں کھڑا نہیں ہونے دیتی تو وہ اپنے بچے کو ہی مار کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کر لیتی ہے۔اسی طرح جب اس رئیس کو سارے عرب کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات نہ ہوئی تو اس نے حضرت عثمان پر اپنا غصہ نکالا اور کہا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم خواہ مخواہ بڑوں کی باتوں میں دخل نہ دیا کرو؟ آخر تم نے دیکھ لیا کہ اس کا کیا انجام ہو تا ہے۔تمہاری آنکھ ضائع ہو گئی۔اگر تم میری نصیحت پر عمل کرتے تو ایسا کیوں ہو تا۔حضرت عثمان نے کہا تم ایک آنکھ کا ذکر کرتے ہو خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی سچائی کی خاطر نکلنے کو تیار ہے۔1 غرض حضرت عثمان جو ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے اور بڑے بڑے رؤسا اُن کا احترام کیا کرتے تھے اسلام لانے کے بعد ان کی ایسی حالت ہو گئی کہ لوگوں کی نگاہ میں ان کی کچھ بھی عزت باقی نہ رہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی اُن قربانیوں کی وجہ سے جو انہوں نے اسلام کی خاطر کیں اس قدر محبت تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم فوت ہوئے تو آپ نے انہیں قبر میں رکھتے ہوئے فرمایا۔جا اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس۔2 گو یار سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عثمان بن مظعون اپنے بچوں کی طرح پیارے تھے۔جب یہ عثمان شہید ہوئے تو لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ یا رسول اللہ ! حضرت عثمان کو دفن کرنے کے لئے ہمارے پاس کافی کپڑا نہیں۔چادر اتنی چھوٹی ہے کہ اگر ہم سر پر ڈالتے ہیں تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں اور