خطبات محمود (جلد 26) — Page 459
$1945 459 خطبات محمود ہو گا۔اس جگہ کے لئے وہ مضمون نیا ہو گا۔خواجہ کمال الدین صاحب کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کر کے ایک لیکچر تیار کرتے تھے۔پھر قادیان آکر کچھ حضرت خلیفہ اول سے پوچھتے اور کچھ دوسرے لوگوں سے اور اس طرح ایک لیکچر مکمل کر لیتے۔پھر اسے لے کر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے اور خوب کامیاب ہوتے۔وہ کہا کرتے تھے کہ اگر بارہ لیکچر آدمی کے پاس تیار ہو جائیں تو اُس کی غیر معمولی شہرت ہو سکتی ہے۔انہوں نے ابھی سات لیکچر تیار کئے تھے کہ ولایت چلے گئے۔لیکن وہ ان سات لیکچروں سے ہی بہت مقبول ہو چکے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک لیکچر بھی اچھی طرح تیار کر لیا جائے تو چونکہ وہ خوب یاد ہوتا ہے اس لئے لوگوں پر اس کا اچھا اثر ہو سکتا ہے۔پہلے زمانہ میں اسی طرح ہوتا تھا کہ صرف میر 4 کا الگ استاد ہو تا تھا نحو میر 5 کا الگ استاد ہو تا تھا۔پکی روٹی کا الگ استاد ہو تا تھا اور کچی روٹی کا الگ استاد ہو تا تھا۔اور چاہیے بھی اسی طرح کہ جو لیکچرار ہوں اُن کو مضامین خوب تیار کر کے دیے جائیں اور وہ باہر جا کر وہی لیکچر دیں۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سلسلہ کے مقصد کے مطابق تقریریں ہوں گی اور ہمیں یہاں بیٹھے بیٹھے پتہ ہو گا کہ انہوں نے کیا بولنا ہے۔اصل لیکچر وہی ہوں گے۔اس کے علاوہ اگر مقامی طور پر ضرورت ہو تو تائیدی لیکچروں کے طور پر وہ اور کسی مضمون پر بھی بول سکتے ہیں۔مضمون تیار کرنے کا طریقہ یہ ہو کہ وہ خود بھی تحقیق کریں اور دوسرے علماء بھی اُس کے متعلق نوٹ لکھوائیں اور اس طرح ایک مجموعی نظر اُس مضمون پر پڑ جائے۔اسی طرح ہر دورہ کے بعد ایک اور لیکچر تیار ہو جائے۔اس طرح مرکز کی نگرانی کے ماتحت سلسلہ کی آواز سارے ہندوستان میں پھیل جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر موجودہ صورت میں فی الحال تین چار آدمیوں کا ایک گروپ بنا دیا جائے تو بھی کام چل سکتا ہے۔ان میں سے ایک عربی دان ہو، ایک انگریزی دان ہو جو سیاسیات اور اقتصادیات کے متعلق لیکچر دے سکے اور ایک لیکچرار ایسا ہو جو مختلف مذہبی جماعتوں کے متعلق واقفیت رکھتا ہو۔مثلاً سکھوں کے متعلق یا برہمو سماجیوں کے متعلق یا مسز اپنی بیسنٹ 6 کی تھیو سافیکل سوسائٹی والوں کے متعلق۔اس طرح اگر ہمیں مناسب حال بیلچر ار مل جائیں جو سارے ہندوستان کا دورہ کرتے پھریں۔دو تین ماہ دورہ کریں