خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 458

+1945 458 خطبات محمود موجود ہیں۔مگر اس علاقہ میں بھی اور بہت سے مبلغوں کی ضرورت ہے۔دفتر دعوت کو چاہیے کہ وہ مختلف زبانوں کے مراکز سے خط و کتابت کرے اور احمدی جماعتوں کو تحریک کرے کہ وہ ہر زبان بولنے والے ایک یا دو آدمی دیں۔خواہ وہ ان پڑھ ہی ہوں تا کہ اِس کام کو شروع کیا جاسکے۔پس ایک تو یہ کام نہایت ضروری ہے دوسرے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ہندوستان تو بہ میں ایک نظام کے ماتحت جلسے کرائے جائیں اور ان میں مختلف مضامین پر لیکچر دلائے جائیں۔میں نے دیکھا ہے اس وقت تک جتنی تقریریں ہوتی ہیں سب بے نظام ہوتی ہیں۔آئندہ ہمیں چاہئے کہ کچھ ایسے آدمی تیار کریں جو عربی دان ہوں اور کچھ ایسے آدمی تیار کریں جو انگریزی دان ہوں۔ہم خود انہیں لیکچر لکھوائیں جس کے بعد وہ ہندوستان کے مختلف بڑے بڑے شہروں میں دورہ کریں اور وہی لیکچر لوگوں کے سامنے بیان کریں۔یہ لیکچر اسلامی مضامین کے متعلق بھی ہوں، عام علمی مضامین کے متعلق بھی اور ہندوؤں سکھوں اور مسیحیوں وغیرہ کے متعلق بھی۔اسی طرح بعض مبلغ ہندوؤں، سکھوں کے متعلق تیار کئے جائیں جو اُن کے مضامین سے واقف ہوں۔پچھلے دنوں مبلغین کا ایک دورہ ہوا اور وہ بڑے خوش خوش واپس آئے کہ بڑی کامیابی ہوئی ہے۔اور کامیابی سے مراد اُن کی یہ تھی کہ ہم نے اس موضوع پر خوب تقاریر کیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں مل کر رہنا چاہیے اور لوگوں نے خوب تعریف کی۔حالانکہ یہ کامیابی تو خواجہ کمال الدین صاحب والی کامیابی ہے۔مضمون تو وہ ہونا چاہیے جن سے اُن پر اختلافی مسائل کی حقیقت واضح ہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے مضامین نہ ہوں وہ بھی ہوں لیکن ہمارا جو اصل میدان ہے اول تو جہ اُدھر ہونی چاہیے۔پس میں یہ تجویز کرتاہوں کہ لیکچروں کے نوٹ ان کو یہاں لکھوائے جائیں اور اُنہی لیکچروں کو وہ سارے ہندوستان میں مختلف مقامات پر بیان کرتے پھریں۔بے شک اس طرح جو لیکچر امر تسر میں دیا جائے گاوہی لاہور میں دیا جائے گا اور وہی جالندھر وغیرہ میں دیا جائے گا۔مگر اس میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ امر تسر والوں نے جو کچھ سنا وہ لاہور والوں کے لئے پرانا نہیں۔ان کے لئے وہ نیا ہی ہو گا۔اسی طرح لاہور والے جو سن چکے ہوں جالندھر اور راولپنڈی کے لئے وہ مضمون پرانا نہیں