خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 456

$1945 456 خطبات محمود والے اور ضروری نہیں کہ یہ لوگ عالم ہوں۔کام شروع کرنے کے لئے جو سامان بھی میسر ہو اُسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایسے آدمیوں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے جو تھوڑا بہت اپنی زبان کا علم رکھتے ہوں۔جیسا کہ ہم نے دیہاتی مبلغین کی سکیم بتائی ہے اسی طرح ان لوگوں کو جو معمولی نوشت و خواند جانتے ہیں تیار کیا جا سکتا ہے۔پہلا قدم ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔شروع میں ہی عالموں کا مل جانا بڑا مشکل ہے۔پس اگر معمولی لکھے پڑھے ہی مل جائیں تو بھی کام چل سکتا ہے۔لیکن اگر لکھے پڑھے بھی نہ ملیں تو ان پڑھوں کو بھی زبانی باتیں سکھائی جاسکتی ہیں۔بنگہ کے ایک دوست میاں شیر محمد صاحب تھے وہ ان پڑھ آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے۔وہ فَنَا فِی الدِّینِ قسم کے آدمیوں میں سے تھے۔ا گا 2 چلاتے تھے اور غالباً پھلور سے سواریاں لے کر بنگہ جاتے تھے۔ان کا طریق تھا کہ سواری کو اگا میں بٹھا لیتے اور اگا چلاتے جاتے اور سواریوں سے گفتگو شروع کر دیتے۔اخبار الحکم منگواتے تھے۔جیب سے اخبار نکال لیتے اور سواریوں سے پوچھتے آپ میں سے کوئی پڑھا ہوا ہے اگر کوئی پڑھا ہوا ہوتا تو اُسے کہتے کہ یہ اخبار میرے نام آئی ہے ذرا اس کو سنا تو دیجئے۔اکا میں بیٹھا ہوا آدمی جھٹکے کھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُسے کوئی شغل مل جائے۔وہ خوشی سے پڑھ کر سنانا شروع کر دیتا۔جب وہ اخبار پڑھنا شروع کر تا تو وہ جرح شروع کر دیتے کہ یہ کیا لکھا ہے ؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ اِس طرح جرح کرتے کہ اُس کے ذہن کو سوچ کر جواب دینا پڑتا اور بات اچھی طرح اُس کے ذہن نشین ہو جاتی۔جب انہوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا تھا تو اُس وقت تک اُن کے ذریعہ سے درجن سے زیادہ احمدی ہو چکے تھے۔اس کے بعد بھی وہ کئی سال زندہ رہے ہیں۔نہ معلوم کتنے آدمی ان کے ذریعہ سے اور اسی طریق پر احمدیت میں داخل ہوئے۔غرض ضروری نہیں کہ ہمیں کام شروع کرنے کے لئے بڑے بڑے عالم آدمیوں کی ضرورت ہو۔بلکہ ایسے علاقوں میں جہاں کوئی پڑھا ہوا آدمی نہیں مل سکتا اگر ان پڑھ احمدی مل جائے تو ان پڑھ ہی ہمارے پاس بھیجوا دیا جائے۔اسکو زبانی مسائل سمجھائے جاسکتے ہیں تا کام شروع ہو جائے۔اگر ہم اس انتظار میں رہے کہ عالم آدمی ملیں تو نہ معلوم ان کے آنے تک کتنا