خطبات محمود (جلد 26) — Page 455
خطبات محمود 455 $1945 یہی حالت زبانوں کی ہوتی ہے۔غیر زبان ناشتہ کے طور پر تو کام دے جاتی ہے لیکن اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔جس طرح چاول کھانے والے کا روٹی سے پیٹ نہیں بھر تا اور روٹی کھانے والے کا چاول سے نہیں بھر تا اسی طرح ہر زبان والا جب تک اپنی زبان میں باتیں نہ سن لے اُسے مزہ نہیں آتا۔تبلیغ کے معنے یہ ہیں کہ بات دل میں رچ جائے۔لیکن بات تو اُسی وقت دل میں رچتی ہے جبکہ اُس کا مزہ آئے۔اور جب تک مزہ نہ آئے اُس وقت تک بات دل میں رچے گی نہیں۔اور بات کا مزہ اُسی وقت آسکتا ہے جبکہ گفتگو اپنی زبان میں ہو۔اس لئے ضروری ہے کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغ وسیع کرنے کے لئے لوگوں کی زبانوں میں ہی تبلیغ کی جائے۔مگر جب تک کہ ہمیں ایسے آدمی میسر نہ آئیں جو ان زبانوں سے واقف ہوں اُس وقت تک کم از کم اتنا تو ضرور ہونا چاہیے کہ ہم ان زبانوں میں اُن لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کریں جن کو کچھ لوگ وہاں کے سمجھ لیتے ہیں۔بنگال میں ہمارے مبلغ ہیں جو بنگالی زبان جانتے ہیں۔سرحد میں بھی ہمارے ایسے آدمی ہیں جو پشتو میں بڑی اچھی طرح تقریر کر سکتے ہیں۔سندھ میں بھی ہیں لیکن گجرات، مرہٹی اور تامل بولنے والے لوگ ابھی ہمارے پاس نہیں۔اسی طرح اڑیہ بولنے والے مبلغ بھی ہمارے پاس نہیں۔ہندی جاننے والے مبلغ ہمارے پاس ہیں لیکن وہ ایسی ہندی نہیں جانتے کہ ان سے تقریروں کی امید کی جاسکے۔ان علاقوں میں تبلیغ کے لئے انگریزی اور اردو ایک حد تک کام دے سکتی ہیں اور کچھ طبقہ تک اس کے ذریعہ آواز پہنچائی جاسکتی ہے لیکن سب تک نہیں۔سب تک تبلیغ پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگ ہوں جو ان زبانوں میں تقریریں کر سکتے ہوں۔اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سارے ہندوستان میں تبلیغ کرنے کے لئے ہر زبان کو جاننے والے لوگ پیدا کرنے چاہئیں۔مگر پنجاب میں بیٹھے ہوئے ہم ان علاقوں کے آدمیوں سے واقف نہیں ہو سکتے۔اس لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہماری مختلف صوبوں کی جماعتیں اپنے اپنے علاقہ سے کچھ لوگوں کو منتخب کریں جو اپنی زندگیاں اس غرض کے لئے وقف کریں۔کچھ تامل جانے والے ہوں، کچھ گجراتی جاننے والے، کچھ مرہٹی جاننے والے ہوں، کچھ کنٹری(Kinnauri) 1 جاننے والے، کچھ اڑ یہ جاننے والے، کچھ تلنگی جاننے