خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 453

خطبات محمود 453 $1945 جاسکتی ہے تو صرف اڑ یہ میں۔اس علاقہ میں کچھ انگریزی جاننے والے بھی نکل آئیں گے کچھ اور زبانیں جاننے والے بھی نکل آئیں گے لیکن بہت تھوڑے۔سارا ملک اڑ یہ ہی جانتا ہو گا اور انگریزی سے بہت کم لوگوں کو مس ہو گی۔اس لئے ان کو باتیں سمجھانے کے لئے اڑیہ زبان میں ہی گفتگو کرنی ضروری ہو گی۔اسی طرح پنجاب کے شہروں میں چلے جاؤ۔انگریزی میں تقریر کرو تو امر تسر میں مقبول ہو جائے گی لاہور میں مقبول ہو جائے گی، اسی طرح اور بڑے بڑے شہروں میں مقبول ہو جائے گی۔اردو میں تقریر کرو تو اسے بھی شہروں کے لوگ پسند کریں گے۔لیکن اگر گاؤں میں چلے جاؤ تو بہت سے گاؤں ایسے ہوں گے جہاں اردو کی تقریر کامیاب نہیں ہو گی۔سب سے زیادہ اردو سے وابستگی رکھنے والی ہماری جماعت ہے۔وہ ہمیشہ ہماری باتیں اردو میں ہی سننے کی عادی ہے۔مگر قریباً ہر جلسہ پر میرے پاس گاؤں کے رہنے والے دوست شکایت کیا کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی تقریر پنجابی میں بھی ہونی چاہیے تا اچھی طرح مسائل سمجھ میں آسکیں۔اردو میں تقریر وہ سمجھ تو لیتے ہیں مگر اُسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح بنگالی آدمی کا معدہ روٹی پچاسکتا ہے۔وہ روٹی کو ہضم تو کر لے گا لیکن وہ اس کے لئے چاول کا قائم مقام نہیں ہو گی جیسے ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ ”انگ نہیں لگتی “ اسی طرح وہ اسے انگ نہیں لگتی“ وہ ان چیزوں سے فائدہ تو اٹھالے گا لیکن چونکہ وہ ایک خاص چیز کا عادی ہوتا ہے اس لئے وہ اس میں حقیقی لطف اٹھا سکتا ہے کسی دوسری چیز میں نہیں۔مثلاً وہ آدمی جو پنجابی سننے کے عادی ہوتے ہیں اردو کی بات اس طرح ان کے دل میں گڑتی نہیں جس طرح پنجابی اُن کے دل میں گڑ جاتی ہے۔پنجاب کی جو مستورات ہمارے جلسہ سالانہ پر آتی ہیں ان کی ہمیشہ یہ درخواست ہوتی ہے کہ رات کے وقت جہاں جہاں وہ ہوں وہاں کوئی پنجابی مولوی تقریر کے لئے بھیجا جائے۔اور اگر کوئی شخص جاکر انہیں پنجابی میں ڈھولے سنادیتا ہے یا تقریر کر دیتا ہے تو کہتی ہیں اب بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی ہے۔اس کے بغیر اُن کا پیٹ نہیں بھرتا۔پس تمہاری زبان جاننے والا آدمی تمہاری زبان جاننے کی وجہ سے تمہاری بات تو سمجھ لے گا لیکن اُس کی پوری تسلی اپنی زبان کے سوا کسی دوسری زبان میں نہیں ہو سکتی۔ایک دفعہ ہم کشمیر گئے وہاں خواجہ کمال الدین صاحب کے بھائی خواجہ جمال الدین صاحبہ