خطبات محمود (جلد 26) — Page 448
$1945 448 خطبات حمود اور بے ہودہ اور لغو کتابوں پر بڑی بڑی رقمیں خرچ کر دیتے ہیں لیکن قرآن خرید نا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے آپ فرماتے تھے میں نے ایک دفعہ ایک امیر آدمی کو نصیحت کی کہ قرآن مجید پڑھا کرو۔کیونکہ ہر روحانی مرض کا علاج اس میں ہے۔میرے نصیحت کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔میں سمجھا کہ اُس پر بہت اثر ہوا ہے۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا کہ آپ مجھے قرآن مجید تحفہ کے طور پر دے دیں تو میں پڑھا کروں گا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ شخص لاکھوں روپے کا مالک ہے لیکن قرآن کے متعلق کہتا ہے کہ اگر تحفہ کے طور پر مل جائے تو میں پڑھ لوں گا۔پس اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت ہے کہ اُس نے تمام قیمتی اشیاء مفت رکھی ہیں اور ان قیمتی چیزوں میں سے جو بغیر قیمت کے ملتی ہیں بچے بھی ہیں۔مگر بہت تھوڑے لوگ ہیں جو بچوں کو قیمتی چیز سمجھتے اور اُن کی زندگی بنانے کی فکر کرتے ہیں۔اگر اُن کی بھینس یا بکری بلکہ میں کہتا ہوں اگر مرغی بھی بیمار ہو جائے تو انہیں اُس کے علاج کا فکر لاحق ہوتا ہے۔لیکن بچے کی زندگی بے شک خراب مجلسوں میں بیٹھ کر یا بری عادات میں پڑ کر یا ان پڑھ رہ کر خراب ہو جائے اس کی انہیں ذرا پروا نہیں ہوتی۔اگر اُن کی بھینس کا دودھ سوکھنا شروع ہو جائے تو سب گھبرا جاتے ہیں کہ پتہ نہیں بھینس کا دودھ کیوں سوکھ رہا ہے گھر میں مشورے ہونے شروع ہو جاتے ہیں فلاں سے علاج پوچھو، فلاں کو بھینس دکھاؤ، فلاں قوم بھینسیں رکھتی ہے اُن سے مشورہ پوچھو۔غرضیکہ گھر میں ایک بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن بچے کا دماغ سوکھتا چلا جاتا ہے اُس کے لئے کسی کو فکر پیدا نہیں ہوتا کہ اُس کی حالت کی درستی کے لئے کسی سے مشورہ نہیں کیا جاتا اور اس لا پرواہی کے نتیجہ میں بچوں کی زندگیاں خراب ہو جاتی ہیں۔اگر گھر میں والدین بچوں کی نگرانی کی طرف توجہ کریں انہیں وقت پر سلائیں، وقت پر جگائیں، نمازوں کے لئے انہیں مساجد میں بھیجیں، سکول میں انہیں وقت پر بھیجیں۔اُدھر سکول میں اساتذہ توجہ کریں اور بچوں کو پڑھائی میں پورے طور پر مشغول رکھیں، کھیل کے وقت اُن کو کھیل میں مصروف رکھیں تو بچوں کی تعلیم و تربیت کا سوال بہت حد تک خود بخود حل ہو جاتا ہے۔بچوں کی تعلیمی حالت بھی اچھی ہو گی اور جسمانی لحاظ سے بھی وہ صحتمند ہوں گے۔ہمارے ہاں پنجابی میں