خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 439

+1945 439 خطبات محمود تر کھانوں کے کام سے خوب واقف تھے۔ان کی انگریزی تعلیم کافی تھی۔اگر انہیں کسی معاملہ میں دقت پیش آتی تو وہ انگریزی کتابوں کا مطالعہ کر لیتے تھے۔اور اس دقت کو حل کر لیتے تھے۔غرض دستی کام کے ساتھ اگر علم مل جائے تو وہ سونے پر سہا گہ کا کام دیتا ہے۔اگر ایک نوجوان اچھا تعلیم یافتہ ہے تو وہ جرمن زبان سیکھ سکتا ہے یا فرانسیسی زبان سیکھ سکتا ہے اور ان ملکوں کی کتابوں سے دستکاری کے بہت سے طریقے جو ہمارے ملک میں رائج نہیں ہیں اُن کو رائج کر سکتا ہے۔یا سائنس کی کتابوں میں سے اپنے فن میں بہت کچھ مدد لے سکتا ہے۔اسی طرح زمینداروں کو اعلیٰ تعلیم دلائی جائے تاکہ وہ غیر ملکوں کے زراعت کے اصول کے متعلق علم حاصل کر سکیں۔ابھی تک ہندوستان میں گورنمنٹ کی طرف سے دیہات میں اعلیٰ تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہوا۔اور جس زمیندار کی دو چار ایکڑ زمین ہو وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کس طرح دلا سکتا ہے۔بے شک پرائمری تعلیم کا انتظام گورنمنٹ کی طرف سے کیا گیا ہے لیکن موجودہ زمانہ کی علمی ترقی کے مقابلہ میں پرائمری تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔اور جن زمینداروں کے پاس اتنی تھوڑی زمین ہے اُن سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت کر سکیں۔تو اس کے لئے میرے نزدیک ایک تجویز یہ ہے کہ دیہات میں تعاون باہمی کیا جائے۔جس طرح ہماری جماعت دوسرے کاموں کے لئے چندے جمع کرتی ہے اسی طرح ہر گاؤں میں اس کے لئے کچھ چندہ جمع کر لیا جائے جس سے اُس گاؤں کے اعلیٰ نمبروں پر پاس ہونے والے لڑکے یا لڑکوں کو وظیفہ دیا جائے۔اس طرح کوشش کی جائے کہ ہر گاؤں میں سے دو تین طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں۔جب یہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں گے تو دوسرے لوگوں کے سامنے ایک نمونہ ہو گا اور وہ کوشش کریں گے کہ ان کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض اچھے کھاتے پیتے خاندانوں کے لڑکے باوجود اعلیٰ تعلیم کی استطاعت رکھنے کے تھوڑی سی تعلیم حاصل کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اُن کے گاؤں میں کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اُن کے لئے بطور نمونہ نہیں ہو تا۔لیکن جن دیہات میں تعلیم کا شوق پیدا ہو جاتا ہے وہاں والدین اپنی زمین رہن رکھ کر