خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 438

$1945 438 خطبات محمود والے لڑکوں میں سے جن کے والدین استطاعت رکھتے ہوں اُن کو تحریک کی جائے کہ وہ اپنے بچے تعلیم الاسلام کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجیں۔اگر جماعت ابھی سے اس پر عمل کرناشروع کر دے تو وہ چار پانچ سال کے اندر اندر بہت اعلیٰ طور پر تعلیم میں منظم ہو سکتی ہے۔ہماری جماعت اس وقت تقریبا پندرہ فیصدی تعلیم یافتہ ہے۔لیکن ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہمارے تمام احمدی سو فیصدی تعلیم یافتہ ہوں۔لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں موجودہ رفتار سے آئندہ دس بارہ سال میں دس فیصدی اور ترقی کی جاسکتی ہے۔گو اس وجہ سے ہم سو فیصدی تعلیم یافتہ نہیں ہو سکتے کہ ہماری تعداد مقرر اور معین نہیں بلکہ ہر سال بڑھتی رہتی ہے۔جن قوموں کی تعداد معین اور مقرر ہو وہ سو فیصدی تعلیم یافتہ ہو سکتی ہیں۔لیکن جس جماعت کے اندر ہر سال نئے آدمی شامل ہوتے رہیں وہ سو فیصدی تعلیم یافتہ نہیں ہو سکتی۔فرض کرو کہ پندرہ سال کے اندر ہم اپنے تمام بچوں کو تعلیم یافتہ بنا دیتے ہیں اور انہیں ایسے مقام پر پہنچادیتے ہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ ہمارے بچے سو فیصدی تعلیم یافتہ ہیں۔لیکن اس پندرہ سال کے عرصہ میں پندرہ میں لاکھ یا اس سے کم و بیش جو لوگ احمدی ہوں گے وہ غیر احمدیوں سے آئیں گے اور ضروری نہیں کہ وہ سب کے سب تعلیم یافتہ ہوں۔اس لئے جب وہ آئیں گے تو وہ ہماری سو فیصدی کو باطل کر دیں گے اور اس سو فیصدی کو پچاس، ساٹھ یا ستر ، اسی فیصدی بنادیں گے۔بہر حال ہمارا فرض ہے کہ جو شامل ہو چکے ہیں اُن کو سو فیصدی تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کریں۔ہمارا ہر ایک بچہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرے۔اگر ہم اس سکیم میں کامیاب ہو جائیں تو ہم تجارت میں سب سے زیادہ کامیاب ہوں گے۔صنعت و حرفت میں سب سے زیادہ کامیاب ہوں گے، ملازمتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ کامیاب ہوں گے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر ہمارے نوجوان پیشوں کو اختیار کریں گے تو سب سے زیادہ کامیاب کاریگر ہوں گے۔اگر تجارت کریں گے تو سب سے اعلی تاجر ہوں گے۔بے شک تمام نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل سکتیں لیکن اگر تعلیم یافتہ فٹر (Fitter) کا کام بھی کریں گے تو وہ دوسرے تمام کاریگروں سے بڑھ جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہوزری کی کامیابی میں بابو اکبر علی صاحب کا بہت کچھ دخل تھا کیونکہ وہ سرکاری کارخانوں میں کام کر چکے تھے اور لوہاروں اور