خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 413

$1945 413 خطبات محمود میں سچائیاں موجود ہیں، ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ہماری کتب جھوٹی ہیں یا سچائی اور جھوٹ دونوں پر مشتمل ہیں مگر تم یہ بتاؤ کہ اگر ہماری کتب جھوٹ اور سچائی یا ساری کی ساری جھوٹ پر مشتمل ہیں اور تمہاری کتاب ساری کی ساری سچائی پر مشتمل ہے تو ہمارے اندر اپنی جھوٹی کتب کے ساتھ تعلق رکھنے سے کیا خرابی پیدا ہوئی؟ اور تمہارا قرآن کریم کے ساتھ تعلق رکھنا کونسے اچھے نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوا؟ آخر اچھی چیز کسی فائدہ کے لئے آیا کرتی ہے۔پھر تمہیں قرآن کریم سے کیا فائدہ پہنچا؟ یہ واقعی ایسا سوال ہے جو معقول ہے اور جس کا جواب دیا جاناضروری ہے ہماری طرف سے اس کا روحانی جواب دیا جاتا ہے۔مگر بتاؤ دنیا میں کتنے انسان ایسے ہیں جو روحانی نگاہ سے صداقت کو دیکھا کرتے ہیں۔ان لوگوں کا جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو روحانی نگاہ سے مانا ان لوگوں سے مقابلہ کرو جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دنیوی نگاہ سے مانا۔روحانی نگاہ سے ماننے والے تو اتنی تھوڑی تعداد میں تھے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کہہ دیا اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا اِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 1 اے موسیٰ! جاؤ تم اور تمہارا خدا دشمن سے لڑتے پھرو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔مگر جب لڑائی کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم پر چلنے والوں کو فتح دی اور روحانی علامات کے علاوہ جسمانی علامات بھی پیدا ہو گئیں، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیر و فلسطین کی چپہ چپہ زمین پر قابض ہو گئے تو ہر ایک نے کہا حضرت موسیٰ سچے تھے۔جب فلسطین کے دریاؤں اور پہاڑوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا یہ ثبوت ہے کہ آپ کے پیرو ہم پر قابض ہیں تو پھر دنیا بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئی اور ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی بلکہ اب تو کروڑوں تک پہنچ چکی ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائے تو ان کو جو دلائل خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے صداقت کے دیئے تھے آیا وہ بہتر دلائل تھے یا وہ جو تین سو سال کے بعد روم میں پیدا کئے گئے، کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو اُن کی زندگی میں جو دلائل ملے تھے وہ تین سو سال کے بعد بگڑے ہوئے عیسائیوں کو مل سکتے تھے۔مگر ان روحانی دلائل سے صرف بارہ آدمی ایمان لائے۔اور ان میں سے بھی ایک نے آپ پر لعنت کی اور ایک نے یہ کیا