خطبات محمود (جلد 26) — Page 412
+1945 412 خطبات محمود کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔اس لئے اُن کے دلوں میں شبہ اور شک پیدا ہو تا ہے اور ان شکوک و شبہات کی وجہ سے لوگ ان کی باتوں کو قبول کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔جب تک یہ ساری چیزیں بیک وقت جمع نہ ہو جائیں اُس وقت تک صداقت کو غلبہ ملنا یقینی نہیں ہو تا۔پس ہم اگر صداقت کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور اگر ہماری جماعت کے دلوں میں یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں زبر دست دلائل عطا فرمائے ہیں تو جب تک ان دلائل کو ہم لوگوں کے سامنے پیش نہ کریں اور جب تک ان دلائل کے ساتھ ہمارے اعمال اور پھر ہمارے اعمال کے ساتھ خدا تعالیٰ کا فعل بھی شامل نہ ہو اُس وقت تک دنیا اس سے مستفیض نہیں ہو سکتی۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ جب کبھی دنیا میں خدا تعالیٰ کے نبی آئے ہیں تو لوگوں کی روحانی اصلاح کے ساتھ ان کی دنیوی ترقی بھی ہوئی ہے۔میں گزشتہ خطبہ جمعہ میں اِس مضمون کو تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر سکا لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے انکار کی ہمیں گنجائش نظر نہیں آتی۔جب ہم دنیا کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پیش کرتے ہیں تو ہم سے اختلاف رکھنے والے مسلمان سوال کرتے ہیں کہ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا میں آکر اپنی جماعت کی عملی زندگی میں کیا تغیر پیدا کیا؟ وہ ہم سے یہ سوال کرتے ہیں اور جائز طور پر کرتے ہیں کہ جہاں تک دلائل کا سوال ہے تم خود مانتے ہو کہ مرزا صاحب قرآن شریف سے باہر کوئی چیز نہیں لائے اور تم خود مانتے ہو کہ قرآن شریف ایک زندہ کتاب ہے۔جب قرآن شریف ایک زندہ کتاب ہے اور ساری صداقتوں کی جامع ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سے باہر کوئی چیز نہیں لائے اور جو کچھ دلائل تم سناتے ہو وہ قرآن کریم میں موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہم ان کو نہیں سمجھ سکے اور تم سمجھ گئے ہو۔مگر بہر حال وہ اس میں موجود ہیں جسے ہم اور تم مانتے ہیں۔تو اس سے زائد کوئی چیز مرزا صاحب کو لانی چاہئے تھی اور وہ یہی ہو سکتی ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ تمہاری جماعت کو ایسا تعلق ہو کہ اس تعلق کی وجہ سے تمہارے لئے وہ نتائج پیدا ہو جاتے ہوں جو ہمارے لئے نہ ہوتے ہوں۔چنانچہ جب ہم قرآن کریم غیر قوموں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ قرآن کریم