خطبات محمود (جلد 26) — Page 391
$1945 391 خطبات محمود کے بعد شدید درد کا دورہ ہو تا رہا۔اتنا شدید کہ بعض دفعہ اس درد کی شدت کی وجہ سے میں محسوس کرتا تھا کہ ایک ہی صورت اس وقت اس تکلیف سے محفوظ رہنے کی ہے کہ کوئی تیز نیند آور دوائی پر کاری کر دی جائے۔اب بھی دوائی لگانے سے اتنا افاقہ ہے کہ ٹمیں نہیں اٹھتی۔لیکن اپنی جگہ پر ملکی ہلکی درد محسوس ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ غالباً دائیں طرف کے دو دانت نکل جانے کے بعد اس درد میں افاقہ کی صورت پیدا ہو جائے گی۔میں جس مضمون کو آج بیان کرنا چاہتا ہوں ظاہری لحاظ سے وہ دنیوی نظر آتا ہے اور ہماری جماعت کی تربیت ابھی ایسی نہیں کہ وہ اپنے نظام بلکہ خلیفہ وقت کی زبان سے بھی دنیوی امور سن کر متائثر ہو۔دینی امور میں تو ہر قسم کی قربانی کے لئے ہماری جماعت تیار ہو جاتی ہے مگر جہاں کسی دنیوی امر کا سوال پیدا ہوتا ہے باوجو داس لمبے تجربہ کے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جب کبھی بھی مجھے خدا تعالیٰ نے دنیوی امور کے متعلق بولنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ہزارہا تجربہ کاروں کی رائے کے مقابلہ میں میری ہی رائے زیادہ صحیح نکلی ہے پھر بھی ہم میں سے ہر ایک میں ابھی یہ مادہ پیدا نہیں ہوا کہ وہ اس قسم کی مثالوں کی موجودگی میں بھی میری ہدایات کی پوری قدر کر سکیں۔بالعموم وہ ان امور کے متعلق اپنے دل میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ دنیوی مشورہ ہے ہم ان امور کے متعلق خود اچھی طرح سوچ سمجھ سکتے ہیں اس لئے ان باتوں کی زیادہ قدر کرنے کی ضرورت نہیں۔مثلاً میں نے وقت پر خدا تعالیٰ سے خبر پاکر جماعت کو 2، 3 سال ہوئے 1942ء کے آخر یا 1943ء کے شروع میں اطلاع دی تھی اور جلسہ سالانہ کے موقع پر اس خواب کو بیان بھی کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو خود اپنے گھروں میں کپڑے بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس دستکاری کو جاری کرنا چاہیے کیونکہ آئندہ کپڑے کے قحط کا امکان ہے۔جس وقت میں نے یہ بات کہی تھی اُس وقت بازاروں میں ہر قسم کا کپڑا ملتا تھا گو مہنگا تھا مگر جہاں تک میرا خیال ہے ساری جماعت میں سے درجن دو در جن آدمیوں کے سوا کسی نے اس امر کی طرف توجہ نہ کی۔پھر وہ دن آگئے جب کپڑے کی اس قدر تنگی ہوئی کہ ابھی تھوڑے دن ہوئے کہ ایک غریب احمدی نے مجھے لکھا کہ میرے پاس ایک ہی گرتا ہے اور وہ بھی جگہ جگہ سے پھٹ گیا ہے، اس کی باہیں بھی پھٹ گئی ہیں اور ا