خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 31

$1945 31 خطبات محمود ہوئے تھے اور زمانہ شناس تھے یعنی مولوی برہان الدین صاحب ایک دفعہ گاڑی میں سوار ہونے لگے۔وہ سادہ طریق کے آدمی تھے معمولی تہہ بند باندھا کرتے تھے اور پھٹا سا گر تہ اور اوپر معمولی سی لوئی اوڑھے ہوتے تھے۔گاڑی میں بھیڑ بہت تھی وہ سوار ہونے لگے تو لوگوں نے روکا۔انہوں نے کہا کہ تھوڑی دور جانا ہے جلدی اُتر جاؤں گا سوار ہو لینے دو۔آخر لوگوں نے انہیں سوار ہونے دیا۔جب وہ سوار ہو گئے تو کسی نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم تو سب کے کئی ہیں۔اس کا مطلب تو یہ تھا کہ ہم احمدی ہیں اور ہمارا کام یہ ہے کہ ہر ایک کی خدمت کریں۔مگر لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ شخص چوہڑا ہے اور ہندؤوں کو چوہڑوں وغیرہ ادنی درجہ کے لوگوں سے جو نفرت ہے وہ سب کو معلوم ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب ہندو یہ لفظ سنتے ہی دُور دُور کھسک گئے اور تمام بیچ خالی ہو گیا اور مولوی برہان الدین صاحب بڑے مزے سے سوتے ہوئے اپنی منزلِ مقصود کو پہنچ گئے۔تو یہ حقیقت ہے کہ ہماری عزت اور ہماری ترقی دنیا کی خدمت میں ہی ہے۔ہمیں روحانی طور پر دنیا کی خدمت کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھی اور دنیا کے دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملادیں تا دنیا کے لوگوں کے دلوں سے ظلم اور تاریکی دور ہو اور ہمارے اپنے دلوں سے بھی دور ہو۔ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اپنی بھی اصلاح ہو، ہمسایہ کی بھی اصلاح ہو اور اپنے وطن اور اپنے براعظم اور تمام دنیا کے لوگوں کی اصلاح ہو۔دنیا کے سب انسانوں کا گند اُٹھانا اور میل کو دُور کرنا ہمارا کام ہے۔اگر دنیا ہمیں اس کام میں مشغول رہنے دے اور حکومتیں اور بادشاہتیں اپنے پاس رکھے تو ہم سمجھیں گے کہ اس خدمت کا موقع دے کر اس نے ہمیں بادشاہت اور حکومت دے دی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی تعلیم کے پھیلے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی ہیں اصل حکومت انہی کی ہے۔وہ قلعہ جس میں دنیا کو امن مل سکتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو صرف اس کا دروازہ کھولنے والے ہیں۔دنیا اس امن کے قلعہ سے ناواقف تھی اور اس امن کے حصار سے باہر تھی اور اسی جگہ کھڑی تھی جہاں اسے درندے کھانے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اس حصارِ امن کے