خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 360

$1945 360 خطبات محمود اب بھی کئی ممالک ایسے ہیں جن میں احمدی کا داخلہ بند ہے اور ہمارے مبلغین کو وہاں جانے سے روکا جاتا ہے۔غرض مالی لحاظ سے تو جماعت کئی سال سے قربانیان کرتی آرہی ہے گو اعلیٰ معیار تک ابھی تک نہیں پہنچی۔مگر جانی قربانی کے لحاظ سے ابھی ابتدا نہیں ہوئی۔البتہ وقف زندگی کے مطالبہ کے ذریعہ بنیاد کا ایک نشان لگا دیا گیا ہے۔جیسے بنیاد کھودتے وقت کسی سے ٹک لگایا جاتا ہے۔پھر بنیاد کھودی جاتی ہے۔جب بنیاد کی کھدائی ہو جاتی ہے تو اس پر دیوار میں کھڑی کرتے ہیں۔جب دیواریں بن جاتی ہیں تو ان دیواروں پر چھتیں ڈالی جاتی ہیں۔اس کے بعد پلستر کیا جاتا ہے دروازے اور کواڑ لگائے جاتے ہیں تب کہیں جا کر مکان تیار ہو تا ہے جس طرح مکان آہستہ آہستہ کچھ عرصہ کے بعد جا کر تیار ہوتا ہے۔اسی طرح جان دینے کی عمارت کے تیار ہونے میں کچھ دیر باقی ہے۔کوئی عمارت بھی ایک دن میں تیار نہیں ہوتی۔ایسے ہی یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ جمع ہو کر آئیں اور وہ کہیں کہ اگر تم میں سے پانچ ہز ار آدمی اپنی گردنوں پر چھری پھیر لیں تو ہم اسلام کو قبول کر لیں گے بلکہ یہ قربانیاں آہستہ آہستہ دینی پڑیں گی۔پہلے ایک دو پھر آٹھ دس پھر پندرہ ہیں اسی طرح آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔آخر وہ دن آجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غلبہ عطا کرتا ہے اور کفر ہتھیار ڈال دیتا ہے اور یہ کام ایک لمبے عرصہ میں جاکر ہوتا ہے۔آج دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حالت بالکل ایسی ہی ہے جیسے حضرت خلیفہ اول اپنے ایک استاد کا خواب سنایا کرتے تھے (گو حضرت خلیفہ اول ان سے پڑھتے تو نہیں تھے۔لیکن آپ اُن کے پاس بیٹھتے اور اُن سے روحانی باتیں کرتے رہتے تھے اس لئے ان کو استاد ہی کہتے تھے) انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میں شہر سے باہر گیا ہوں اور ایک کوڑھی شخص بھوپال سے باہر چپل پر پڑا ہے۔اس کا جسم نہایت گندا ہے۔جسم پر مکھیاں بھنک رہی ہیں۔آنکھوں سے اندھا ہے۔دوسرے سب اعضاء شل ہیں۔میں نے اس وجود سے پوچھا تم کون ہو۔اُس نے کہا میں اللہ میاں ہوں۔یہ سن کر میرا جسم کانپ گیا اور میں نے کہا تم اللہ میاں کیسے ہو۔تمہارا تو اپنا برا حال ہے۔تم خود کوڑھی ہو۔ہاتھ پاؤں ہلا نہیں سکتے۔آنکھوں سے تم اندھے ہو۔ہمارا خدا تو وہ ہے جو ان تمام عیوب سے پاک ہے۔اس کی طاقتیں غیر محدود ہیں۔تو اس وجود نے جواب دیا کہ میں بھوپال والوں کا اللہ ہوں یعنی بھوپال والوں کے دلوں میں میرا تصور ایسا ہی ہے۔اسی