خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 359

$1945 359 خطبات محمود ہے اور وہ اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتا ہے اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کی نیت کی خرابی کی وجہ سے یا اور کسی گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُس کی قربانیوں کو قبول نہیں کیا اور اس کی قربانیاں ضائع ہو گئی ہیں۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اچھا بیج بویا جائے اور وہ اچھا پھل نہ لائے۔اگر کسی شخص کو ان قربانیوں کے نتیجہ میں مزید چندے دینے اور خدا کی راہ میں مزید تکلیفیں برداشت کرنے کی توفیق نہیں ملتی تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہوا ہے جو اسکے قربانی کے بیج کو جس نے پھل دینا تھا بہا کر لے گیا ہے۔ایسے آدمی کو اللہ تعالیٰ کے حضور بہت توبہ استغفار کرنا چاہیے اور بہت دعائیں کرنی چاہئیں تا اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے اور اسے مزید قربانیوں کی توفیق عطا کرے۔جس طرح تین ماہ میں ایک دھیلا چندہ نے بڑھتے بڑھتے موجودہ مالی قربانیوں کی صورت اختیار کر لی ہے اسی طرح جانی قربانی کا وقت بھی آنے والا ہے اور وہ وقت آنے والا ہے جبکہ دشمنان اسلام تمہارے سینوں میں خنجر گاڑ دیں گے۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ تمہارے دشمن تمہارے متعلق یہ جان لیں کہ تم ان کو کھا جانے والے ہو اور وہ تم کو قتل نہ کریں۔ابھی تک تو دنیا تم کو ایک کھلونا سمجھتی ہے اس سے زیادہ تمہیں کوئی وقعت نہیں دیتی۔اگر کسی کے جسم پر مچھر بیٹھے تو وہ آہستہ سے اُس کو اڑانے کے لئے ہاتھ ہلا دیتا ہے اور اُس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا۔لیکن جس شخص کے گھر میں چور گھس آئے کیا وہ اُس کا اُسی طرح مقابلہ کرتا ہے جس طرح مچھر کو اپنے جسم سے ہٹاتا ہے؟ نہیں۔وہ اُس کا پوری طرح مقابلہ کرتا ہے اور ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اُس کو پکڑے۔اور چور باوجود اس بات کے جاننے کے کہ گھر والا حق پر ہے اور میں ناحق پر ہوں اور میں ظالم ہوں اور گھر والا مظلوم ہے پھر بھی گھر والوں کا مقابلہ کرتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ ان کو زخمی کر کے بھاگ جائے۔اسی طرح کفر بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ باطل پر ہے بلکہ اپنے آپ کو حق پر ہی سمجھتا ہے اور ایمان کا سختی سے مقابلہ کرتا ہے۔جس دن کفر کو یہ معلوم ہو گیا کہ تم اسے دنیا سے مٹا دینے والے ہو وہ یقیناً سختی سے تمہارا مقابلہ کرے گا اور تمہاری گردنوں میں، تمہارے سینوں میں، تمہارے جگر میں خنجر گاڑ دے گا۔اور کفر اپنا سارا زور لگائے گا کہ اسلام کو قتل کر دے اور اسلامی عمارت کو منہدم کر دے۔گوا بھی وہ دن دور ہیں لیکن آہستہ آہستہ قریب آتے جاتے ہیں۔