خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 350

$1945 350 خطبات حمود دیکھیں کہ کچھ لوگ ہاتھوں میں لٹھ لئے چلے جارہے ہیں اور غصہ کی وجہ سے اُن کی آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں۔ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کو فلاں شخص نے برا کہا ہے یا حضرت عمرؓ کو فلاں شخص نے برا کہا ہے یا حضرت عثمان کو فلاں شخص نے برا کہا ہے یا حضرت علیؓ کو فلاں شخص نے برا کہا ہے تو میں سمجھتا ہوں ان کو اپنی قربانیاں ذلیل ترین چیزیں نظر آنے لگیں گی اور وہ خیال کریں گے کہ ہم نے کوئی قربانی نہیں کی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی شہید ہوئے اور آپ نے اُن کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ سر نیچے ڈالے ہوئے افسردہ جارہے ہیں۔آپ نے اس سے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! میرا باپ شہید ہو گیا ہے، پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کے خیال سے میں متفکر ہوں۔آپ نے فرمایا کیا تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے باپ سے اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا ہے؟ اگر تمہیں علم ہو تا تو تم اس طرح افسردہ نہ ہوتے۔پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کی روح کو اپنے سامنے حاضر کیا اور کہا تم مجھ سے مانگو جو کچھ مانگنا چاہتے ہو۔میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔انہوں نے کہا خدایا! میری صرف اتنی خواہش ہے کہ مجھے دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجا جائے تاکہ میں پھر اسلام کی خدمت کرتا ہوا مارا جاؤں۔پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر میں مارا جاؤں اور پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر میں مارا جاؤں۔میری یہی خواہش ہے کہ میں بار بار اسلام کی خاطر جان دوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے اپنی جان ہی کی قسم ہے کہ اگر میں نے یہ عہد نہ کیا ہو تا کہ میں کسی انسان کو دوبارہ دنیا میں واپس نہیں بھیجوں گا تو میں تیری اس خواہش کو ضرور پورا کرتا۔3 غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو وقت سے پہلے قربانیاں بھاری اور گراں نظر آتی ہیں۔ہر طالب علم جو سکول جاتا ہے وہ سکول جانا کتنی مصیبت سمجھتا ہے۔اسے سبق یاد کرنا پڑتا ہے ، لکھائی کا کام کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی کام نہ کرنے پر اسے استاد سے مار بھی کھانی پڑتی ہے۔لیکن کیا کوئی طالب علم ایسا ہے جس نے بعد میں اپنے سکول کی زندگی پر نظر کی ہو اور اس نے اپنی پہلی زندگی پر افسوس کیا ہو؟ تمہیں کوئی طالب علم بھی ایسا نظر نہیں آئے گا جو اپنی