خطبات محمود (جلد 26) — Page 346
$1945 346 خطبات حمود اتنی رقم یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں کے کھانے اور پہنے وغیرہ پر خرچ کر رہی ہے کہ جس کی مثال دوسری قوموں میں نہیں ملتی۔بعض بیتامی کو وظائف دیئے جاتے ہیں، بعض کو تعلیم دلوائی جاتی ہے اور ان میں سے بعض جو زیادہ ذہین ہوتے ہیں ان کو کالجوں میں تعلیم دلوائی جاتی ہے۔اسی طرح جماعت یتامی او مساکین کے لئے غلے کا انتظام کرتی ہے۔اور یہ ایسا کام ہے کہ دوسری جماعتیں جو ہم سے دس ہیں گنا بڑی ہیں وہ بھی ایسا کام نہیں کر رہیں) پس اگر کسی وقت یہ سوال پیدا ہو جائے کہ ہم یتامی کی طرف توجہ کریں یا کفر و اسلام کے مقابلہ اور احمدیت کی اشاعت کی طرف؟ اور یہ کہ اگر ہم یتامی و مساکین کی طرف توجہ کریں گے تو اسلام کی عمارت کو بلند کرنے کے لئے ہمارے پاس کچھ باقی نہیں رہے گا۔تو اس وقت نوجوانوں کی قربانی تو الگ رہی، بیتامی او مساکین کی قربانی کرنے سے بھی مجھے دریغ نہیں ہو گا کیونکہ اسلام کی اشاعت بہر حال مقدم ہے اور یہ مقصد یتامی و مساکین کی پرورش سے زیادہ اعلیٰ اور بلند ہے۔غرض ایک وقت قوم پر ایسا آتا ہے جب دوسری ساری چیزوں اور سارے خیالات کو قربان کرنا پڑتا ہے۔میں نے پچھلے خطبہ میں بیان کیا تھا کہ یہ وقت احمدیت کے لئے نہایت نازک ہے اور میں نے اس کی مثال بچے کی پیدائش سے دی تھی۔بچہ کی پیدائش کا وقت بہت نازک وقت ہوتا ہے اگر یہ وقت خیر وعافیت سے گزر جائے تو سارا گھر خوش ہوتا ہے کہ ایک نیا وجود دنیا میں آیا۔حالانکہ وجود تو اُس وقت سے تھا جب باپ کا نطفہ ماں کے رحم میں گیا۔بلکہ اس سے بھی پہلے جب وہ نطفہ باپ کی کمر میں تھا۔اُس وقت بھی اس کا وجو د تھا۔مگر جو ارتقائی حالتیں ہیں اُن میں سے گزر کر اُس کا عالم وجود میں آنا حقیقی رنگ سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح ہماری جماعت کے لئے پیدائش کا وقت آ رہا ہے۔اور غالباً بیس سال کے عرصہ میں اس پیدائش کا ظہور ہونے والا ہے۔فرد کی پیدائش کو بہت تھوڑا وقت لگتا ہے۔بعض ماؤں کو تو صرف ایک دو منٹ درد ہو کر بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔بعض ماؤں کو ایک دو گھنٹہ کی درد کے بعد بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔بعض حالتوں میں تین تین چار چار دن گزر جاتے ہیں اور پھر بچہ پیدا ہوتا ہے۔مگر قوموں کی پیدائش افراد کی پیدائش کی طرح نہیں ہوتی۔وہ دنوں اور مہینوں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی بلکہ سالوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔بعض دفعہ قوموں کی پیدائش پر دس ہیں یا تیں