خطبات محمود (جلد 26) — Page 342
خطبات حمود 342 $1945 پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ وقت بہت نازک ہے۔اپنے ایمانوں کی فکر کرو، اپنی اصلاح کرو ، سُستیوں اور غفلتوں کو ترک کرو۔میں نے تحریک جدید کے دس سالہ دور میں کئی بار بتایا تھا کہ یہ قربانی صرف دس سال کے لئے نہیں ہو گی بلکہ آئندہ بھی جاری رہے گی خواہ کسی صورت میں جاری رہے۔مگر افسوس کہ بہتوں نے اس بات کو سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا۔خوب یا در کھو جس دن کسی قوم میں قربانی بند ہوئی وہی دن اُس قوم کی موت کا ہے۔قوم کی زندگی کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ قربانیوں میں ترقی کرتی چلی جائے اور قربانیوں سے جی نہ چرائے۔اگر ہم ساری دنیا کو بھی فتح کر لیں پھر بھی ہمیں اپنے ایمان کو سلامت رکھنے اور اپنے ایمان کو ترقی دینے کے لئے قربانیاں کرتے رہنا ہو گا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ جماعت ایک نازک ترین دور میں سے گزرنے والی ہے اس لئے اپنے ایمانوں کی فکر کرو۔کسی شخص کا یہ سمجھ لینا کہ دس پندرہ سال کی قربانی نے اس کے ایمان کو محفوظ کر دیا ہے اُس کے نفس کا دھوکا ہے۔جب تک عزرائیل ایمان والی جان لے کر نہیں جاتا، جب تک ایمان والی جان ایمان کی حالت میں ہی عزرائیل کے ہاتھ میں نہیں چلی جاتی اُس وقت تک ہم کسی کو محفوظ نہیں کہہ سکتے خواہ وہ شخص کتنی بڑی قربانیاں کر چکا ہو۔اگر وہ اس مرحلہ میں پیچھے رہ گیا تو اُس کی ساری قربانیاں باطل ہو جائیں گی اور وہ سب سے زیادہ ذلیل انسان ہو گا۔کیونکہ چھت پر چڑھ کر گرنے والا انسان دوسروں سے زیادہ ذلت کا مستحق (الفضل 6 ستمبر 1945ء) ہوتا ہے۔66 1 : خال: (i) وہ قدرتی سیاہ نقطہ جو چہرے یا جسم پر ہوتا ہے۔(ii) تل 2: قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات: 15) 3: حمائل: گلے میں ڈالنے والی چیز