خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 340

خطبات محمود 340 $1945 یہ عزت رہی؟ بمشکل چالیس سال تک تیمور کی قوم کے پاس یہ عزت رہی۔اسی طرح نپولین کی قوم بھی زیادہ دیر تک بر سر اقتدار نہ رہ سکی اور جلد ہی ختم ہو گئی۔اور ہٹلر کا تو کچھ بنا ہی نہیں وہ اپنی زندگی میں ہی ملک کی عزت کو ختم ہوتا دیکھ گیا۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے جو قربانیاں کیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ان مثالوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہماری جماعت کو غور کرنا چاہیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ہمارے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم ساری دنیا کی اصلاح کریں۔ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا قائم کریں۔ساری دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں داخل کریں۔اس کام کے لئے ہمیں دن رات محنت کی ضرورت ہے ، دن رات قربانیوں سے کام لینے کی ضرورت ہے اور دن رات اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اگر ہم اس کام کو کر لیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے یعنی ہم دنیا سے دہریت اور لامذہبیت کو مٹانے میں کامیاب ہو جائیں اور پھر دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت قائم کر دیں تو ہمارے جیسا خوش قسمت اور کون ہو سکتا ہے۔اس کام کے نتیجے میں ہم ابد الآباد زندگی اور ابد الآباد انعامات کے وارث ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارے شامل حال ہو گی۔لیکن ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم ایمان میں ترقی کریں، ضرورت ہے اِس بات کی کہ ہم اخلاص میں ترقی کریں، ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم قربانیوں میں ترقی کریں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رسمی طور پر جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں یعنی عقلی طور پر انہوں نے جماعت کے عقائد کو سمجھ لیا ہوتا ہے لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا۔جیسے بعض لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ یہ لوگ مسلمان تو ہیں لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔2 اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ منافق تھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے دماغوں میں اسلام کا مفہوم تو آگیا تھا اور دماغی طور پر تو انہوں نے اسلام کو سمجھ لیا تھا لیکن اُن کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا۔حقیقی ایمان اُسی وقت حاصل ہوتا ہے جب ایمان دماغ سے اتر کر دل میں داخل ہو جائے۔جیسے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی کے دلائل ننے اور عقلی طور پر اس بات کا قائل ہو جائے کہ خدا موجود ہے اور اس کی یہ صفات ہیں۔تو یہ اور بات ہے اور یہ کہ