خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 262

$1945 262 خطبات محمود سے لے کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے لوگوں کو اس فتنہ سے نہ ڈرایا۔اتنے عظیم الشان فتنہ کے متعلق جس کی تمام انبیاء خبر دیتے چلے آئے ہیں اگر ہماری جدوجہد کو دیکھا جائے تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ یا تو سارے انبیاء سے خدا نے مذاق کیا ہے اور یا یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے ہم سے مذاق کیا ہے۔فتنہ تو صرف اتنا تھا کہ ایک یا دو آدمیوں کی تقریروں سے یا ایک یا دو مضمون ”الفضل“ میں شائع کرا دینے سے دور ہو سکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آدم سے لے کر اب تک تمام انبیاء کے ذریعہ اس کی خبر دینی شروع کر دی۔اور کہنا شروع کر دیا کہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے، بہت بڑا خطرہ ہے جو تمہارے سامنے آنے والا ہے۔حالانکہ وہ خطرہ ایسا تھا جس کے لئے ” الفضل“ کے ایک یا دو مضمون کافی تھے، جس کے لئے ہمارے کالج کے کسی پروفیسر کے ایک یادو لیکچر کافی تھے، اس کے لئے ہمارے کسی مبلغ کی ایک یا دو تقریریں بھی کافی تھیں۔معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے اس قدر اہمیت کیوں دی۔اُس نے آدم کے وقت سے کہنا شروع کر دیا کہ لوگو! ایک بہت بڑا فتنہ آنے والا ہے اس سے ڈر جاؤ اور ابھی سے اس کے متعلق دعائیں کرنا شروع کر دو۔پس یا تو اللہ تعالیٰ نے مذاق کیا ہے نبیوں سے اور یا نبیوں نے مذاق کیا ہے ہم سے۔اور اگر یہ باتیں ہماری عقل میں نہیں آسکتیں اور نہیں آنی چاہئیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نہ خدا نے اپنے نبیوں سے مذاق کیا اور نہ نبیوں نے ہم سے مذاق کیا۔بلکہ ہم مذاق کر رہے ہیں اپنے ایمان سے ، ہم مذاق کر رہے ہیں اپنی عقل سے اور ہم مذاق کر رہے ہیں اپنے مذہب سے۔ان دو صورتوں کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی کہ یا تو خدا اور اس کے رسول نے ہم سے مذاق کیا ہے اور یا ہم ان سے مذاق کر رہے ہیں۔اگر وہ فتنہ اتنا اہم نہیں تھا جتنا انہوں نے بتایا اور ہماری موجودہ جد وجہد اس فتنہ کو مٹانے کے لئے کافی ہے تو پھر خدا نے ہم سے مذاق کیا ہے۔اور اگر یہ فتنہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا خدا اور اس کے رسولوں نے ظاہر کیا تو ہم مذاق کر رہے ہیں خدا سے۔ہم مذاق کر رہے ہیں خدا کے رسولوں سے۔اور ہم مذاق کر رہے ہیں اپنے ایمان سے۔پہلی بات تو ممکن نہیں مگر دوسری بات ممکن ہے۔مگر جہاں یہ بات ممکن ہے وہاں ہمارے لئے سخت حسرت اور اند وہ کا مقام بھی ہے کہ جس بات کے لئے ہمیں قبل از وقت ہوشیار کر دیا گیا تھا اس کی خبر سن کر بھی