خطبات محمود (جلد 26) — Page 241
$1945 241 خطبات محمود جیسے کوئی بالکل ناواقف ہوتا ہے یہ کہا کہ اس میں لڑائی کی کونسی بات ہے خوامخواہ تم جھگڑ رہی ہو ، سیدھی بات ہے میں ابھی چُھری منگوا کر اس بچے کو آدھا آدھا کر دیتا ہوں اور تم دونوں میں بانٹ دیتا ہوں۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اِس طرح فیصلہ دیا تو وہ جو سوتیلی ماں تھی اُس نے سمجھا کہ میرا لڑکا تو مر ہی چکا ہے اگر یہ بھی مر گیا تو ہم دونوں برابر ہو جائیں گی اُس نے کہا ہاں یہی انصاف ہے۔مگر جو اصلی ماں تھی اُس نے کہا حضور !میں جھوٹ بول رہی تھی یہ اس کا بچہ ہے میرا نہیں آپ اسی کو دے دیں اور اسے ذبح نہ کریں۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس پر وہ بچہ اصلی ماں کے حوالے کر دیا اور کہا یہ تیر اہی بچہ ہے اس عورت کا نہیں جو اسے کاٹنے پر خوش ہو رہی تھی۔1 تو دیکھو سچی محبت میں انسان اپنی چیز بچانے کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔یہاں چالیس کروڑ انسان غلامی میں مبتلا ہے، چالیس کروڑ انسان کی ذہنیت نہایت خطر ناک حالت میں بدل چکی ہے۔نسلاً بعد نسل وہ ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں۔وہ انگریز جس نے ہندوستان پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کر رہا ہے۔لیکن سیاسی لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں کہ تمہارے اتنے ممبر ہونے چاہئیں اور ہمارے اتنے۔اگر ہندوستان کی سچی محبت ان کے دلوں میں ہوتی تو میں سمجھتا ہوں ان میں سے ہر شخص کہتا کہ کسی طرح ہندوستان آزاد ہو جائے۔کسی طرح چالیس کروڑ انسان غلامی کے گڑھے سے نکل آئے۔چلو تم ہی سب کچھ لے لو مگر ہندوستان کی آزادی کی راہ میں روڑے مت انکاؤ۔لیکن بجائے اِس کے کہ انہیں ہندوستان کی آزادی کا فکر ہو، انہیں چالیس کروڑ انسانوں کی غلامی کی زنجیریں کاٹنے کا احساس ہو ، وہ معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑ رہے ہیں۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان دنوں میں خاص طور پر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، ان کی بینائی کو تیز کرے اور وہ خدائی تحریک جو میرے خطبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے اُس سے انہیں فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا کرے۔ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی غفلت اور کو تاہی سے اس اہم موقع کو ضائع کر دیں اور وہ مزید ہیں یا پچاس یا