خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 234

$1945 234 خطبات محمود سر بر آوردہ اخبارات میں بڑے بڑے لیڈروں نے چودھری صاحب کی آواز کے خلاف یا اس کی تائید میں مضامین لکھے اور اس طرح وہ آواز جو میں نے قادیان سے بلند کی تھی سارے انگلستان میں پہنچ گئی۔انگلستان سے امریکہ کے نمائندوں نے تاروں کے ذریعہ اس کو امریکہ میں پھیلایا اور رائٹر کے نمائندوں نے اس آواز کو ہندوستان میں پہنچایا اور پھر ہندوستان کے مختلف گوشوں میں اس کی تائید میں آوازیں بلند ہونی شروع ہو گئیں۔اس طرح وہ بات جو میں نے اپنے اُس خطبہ میں بیان کی تھی پوری ہو گئی کہ مجھے اپنی آواز کے ہوا میں اُڑ جانے کا کیا خوف ہو سکتا ہے۔جبکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہوا میں اُڑنے والی آواز کو بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے۔یہ ریڈیو آخر ہوا میں سے ہر آواز کو پکڑنے کا آلہ ہے۔اگر ریڈیو کے ذریعہ آوازیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکتی ہیں تو ہمارے خدا میں بھی یہ طاقت ہے کہ وہ ریڈیو سے کام لیتے ہوئے میری آواز کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے۔خدا نے میری اس بات کو پورا کیا اور ہندوستان اور انگلستان کے مفاد کے لئے میں نے جس آواز کو بلند کیا تھا وہ ہندوستان اور انگلستان اور امریکہ میں تھوڑے ہی دنوں میں گونجنے لگ گئی۔لیکن یہ آواز بلند ہوئی تھی اُس کی تکمیل کے لئے ابھی ایک ایسے انسان کی ضرورت تھی جو ان معاملات میں صاحب اقتدار ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے وہ شخص پکڑ ا جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ انہیں ہندوستان کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں۔وہ ہندوستان کی آزادی کے حق میں نہیں۔بلکہ یہاں تک کہا جاتا تھا کہ سر کرپس جو ہندوستان میں آزادی کی تجاویز لائے تھے ان کی تجاویز میں اگر کسی نے رخنہ ڈالا تو وہ لارڈ ویول ہی تھے۔غرض وہی شخص جس پر یہ بدظنی اور بد گمانی کی جاتی تھی اس تقریر پر دو تین مہینہ گزرنے کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے اُس کے دل میں ایسی تحریک پیدا کی کہ وہ ہندوستان سے انگلستان پہنچاتا کہ وہ وزارت سے یہ مطالبہ کرے کہ وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے۔اور جیسا کہ انگلستان کے اخبارات سے پتہ لگتا ہے وزارت کے ایک حصہ نے سختی سے ان کی تجاویز کی مخالفت کی۔یہاں تک کہ اخبارات میں شائع ہوا کہ لارڈ ویول استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہندوستان کی آزادی کے متعلق میری بات نہ مانی گئی تو