خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 222

$1945 222 خطبات محمود 65،60 فیصدی کو 70، 80 فیصدی بنادیتی اس سال ابھی تک صرف 40 فیصدی رقوم اس نے ادا کی ہیں۔اور چونکہ عام طور پر پیچھے رہ جانے والے سست یا کمزور ہوتے ہیں یا ان کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اگر اسی اندازہ کے مطابق جس طرح پہلے رقوم وصول ہوتی تھیں اندازہ لگایا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس سال بجائے 100 فیصدی وصول ہونے کے 65،60 فیصدی چندہ وصول ہو گا۔اسی طرح قرآن شریف کے چندہ کے متعلق بھی میں دیکھتا ہوں کہ جماعت پورے جوش کے ساتھ کام نہیں کر رہی۔جہاں تک چندہ لکھوانے کا سوال تھا یہ چندہ مطلوبہ رقم سے زیادہ آگیا ہے۔یعنی بجائے دولاکھ کے دولاکھ پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔یہ وعدے خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہوئے ہیں۔کیونکہ اس عرصہ میں یورپین تبلیغ جس کے ساتھ قرآن شریف کے تراجم کا زیادہ تر تعلق ہے وسیع ہو گئی ہے۔اور اس کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں ضرورت تھی کہ ہم انگلستان میں اپنے دارالتبلیغ کو بڑھاتے۔چنانچہ اس کے لئے ہمیں اکتیس ہزار روپے میں ایک مکان مسجد کے پاس ہی مل گیا ہے جس کی مرمت پر تو دس ہزار روپیہ خرچ ہو گا۔اس طرح چالیس ہزار وپے کا ایک اور خرچ تبلیغ یورپ کے لئے پیدا ہو گیا ہے۔پس یہ وعدے جو زیادہ ہوئے خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہیں جو قریب عرصہ میں تبلیغ اور اس کی وسعت کے لئے پیدا ہونے والی ہیں۔جہاں تک وصولی کا سوال ہے یہ چندہ بھی آٹھ مہینے کے اندر اتنا وصول نہیں ہوا جتنا وصول ہو جانا چاہیے تھا۔اس وقت تک اس چندہ میں سے صرف ساٹھ فیصدی وصول ہوا ہے۔ابھی تین مہینے باقی ہیں اور اس عرصہ میں چالیس فیصدی چندہ وصول ہونا ضروری ہے۔پس میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے وعدے جلد سے جلد پورا کرنے کی کوشش کرے۔تحریک جدید دفتر دوم کے وعدے بھی بہت کم ہیں۔ہمارے خرچ کا سالانہ اندازہ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا تین لاکھ کے قریب ہے۔لیکن تحریک جدید دفتر دوم کے وعدے اس وقت تک پچاس ہزار ہوئے ہیں۔گویا ہماری آئندہ نسل بجائے سارا بوجھ اٹھانے کے صرف 1/6 حصہ اُٹھانے کے قابل ہو سکی ہے۔اس کے متعلق بھی میں جماعت کو تحریک