خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 209

+1945 209 خطبات محمود نرسیں ان کو جھڑکتی ہیں، ڈاکٹر حقارت سے کہتا ہے چلے جاؤ۔تو یہ دروازہ کے پاس جا کر ٹھپ کر کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس کو ناراض کیا تو میرے عزیز کی جان خطرہ میں پڑ جائے گی۔لیکن ان کو احمدیت عزیز نہیں ہوتی، اسلام عزیز نہیں ہوتا اس لئے سلسلہ اور نظام کی خاطر ادنی سائر اکلمہ سننے کی تاب نہیں رکھتے۔دوسری چیز محنت ہے۔اگر واقع میں احمدیت کی محبت ہوتی تو ضرور نوجوانوں کے اندر محنت کی بھی عادت ہوتی۔مگر ان کے کاموں میں محنت اور باقاعدگی سے کام کرنے کی عادت بالکل نہیں۔اور اگر کوئی کسی کو اچھی بات بھی کہہ دے تو وہ چڑ جاتا ہے کہ اس نے مجھے ایسی بات کیوں کہی۔پس میں پھر ایک دفعہ خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مشورہ کر کے میرے سامنے تجاویز پیش کریں۔میں نے بھی اس پر غور کیا ہے اور بعض تجاویز میرے ذہن میں بھی ہیں۔لیکن پہلے میں جماعت کے سامنے اس بات کو پیش کرتا ہوں کہ وہ مشورہ دیں کہ آئندہ نسلوں میں قربانی اور محنت اور کام کو بر وقت کرنے کی روح پیدا کرنے کے لئے ان کی کیا تجاویز ہیں۔مگر یہ شرط ہے کہ جو شخص تجویز پیش کرے وہ اپنی اولاد کو پہلے پیش کرے۔بعض لوگ لکھنے کو تو لکھ دیتے ہیں کہ اس طرح سلوک کیا جائے، اس طرح نوجوانوں پر سختی کی جائے مگر جب خود اُن کے بیٹوں کے ساتھ سختی کی جائے تو شور مچانے لگ جاتے ہیں۔تو جو شخص اپنی تجاویز لکھے وہ ساتھ یہ بھی لکھے کہ میں اپنی اولاد کے متعلق سلسلہ کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ جو قانون بھی بنائیں میں اپنی اولاد کے ساتھ اس سلوک کو جائز سمجھوں گا۔اسی طرح خدام الاحمدیہ آپس میں مشورہ کر کے مجھے بتائیں کہ نوجوانوں کے اندر محنت اور استقلال سے کام کرنے کی عادت پید ا کرنے کے لئے اُن کی کیا تجاویز ہیں۔نوجوان کام کے موقع پر سو فیصدی فیل ہو جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ مشکل پیش آگئی اس لئے کام نہیں ہو سکا۔وہ نوے فیصدی بہانہ اور دس فیصدی کام کرتے ہیں۔یہ حالت نہایت خطرناک ہے اس کو دیر تک بر داشت نہیں کیا جاسکتا۔پس خدام مجھے بتائیں کہ نوجوانوں کے اندر محنت سے کام کرنے اور فرائض کو ادا کرنے میں ہر قسم کے بہانوں کو چھوڑنے کی عادت کس طرح پیدا کی جائے۔مشورہ کے بعد ان