خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 200

خطبات محمود 200 $1945 دروازہ پر کھڑا ہو جائے اور وہ ہر گزرنے والے سے پوچھے کہ تمہارے پڑدادا کا کیا نام ہے ؟ تو مجھے یقین ہے کہ پچاس فیصدی لوگ یہ کہیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں۔جب اتنی جلدی لوگ اپنے باپ دادوں کا نام بھول جاتے ہیں تو پھر اس دلیل کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے کہ اولاد ہو گی تو ہمارا نام قائم رہے گا۔نام کہاں قائم رہتا ہے ؟ کتنے لوگوں کی اولاد ہے جو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کا ذکر کرتی ہے؟ ان لوگوں کو دیکھ لو جن کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور سوچو تو سہی کہ وہ کتنی دفعہ اپنے ماں باپ کا ذکر خیر کرتے ہیں ؟ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے والدین کو یاد رکھتے ہیں۔تحریک جدید سے اس بات کا پتہ لگ جاتا ہے۔تحریک جدید میں حصہ لینے والوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کی طرف سے حصہ لیا ہے۔مگر یہ لوگ دس فیصدی بھی نہیں بلکہ پانچ فیصدی بھی نہیں۔پانچ فیصدی کے حساب سے پانچ ہزار میں سے اڑھائی سو بنتے ہیں۔مگر میرے خیال میں تو اڑھائی سو بھی ایسے نہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کی طرف سے حصہ لیا ہو۔** تو ماں باپ کا تعلق بالکل قریب کا تعلق ہے مگر لوگ ان کو بھی یاد نہیں رکھتے۔ماں باپ کس طرح تکلیف اٹھا کر اور اپنی ضرورت کو پیچھے ڈال ڈال کر بچوں کی پرورش کرتے اور ان کو پڑھاتے لکھاتے ہیں۔لیکن وہی بچے جب بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے والدین پر ایک پیسہ خرچ کرنے میں بھی دریغ محسوس کرتے ہیں۔میرے پاس کئی ایسے جھگڑے آتے ہیں اور ماں باپ آکر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم ضعیف ہو گئے ہیں اور ہمارے لڑکے ہماری خدمت نہیں کرتے۔جب لڑکوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں تنخواہ تھوڑی ہے دو اڑھائی سو روپیہ تو ملتا ہے مشکل سے اپنا گزارہ ہوتا ہے ان کی خدمت کہاں سے کریں؟ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے باپ کا گزارہ ان سے بھی کم تھا لیکن اس کے باوجود ان پر خرچ کرتے تھے۔غرض ہر نسل کی نظر آگے کی طرف جارہی ہے جس سے پتہ لگتا جب میں خطبہ کے بعد گھر آیا تو مجھے ایک خاتون نے بتایا کہ ہم پانچ عور تیں اکٹھی بیٹھی ہوئی تھیں۔خطبہ کے بعد ہم نے ایک دوسرے سے اس کے پڑدادا کا نام پوچھا تو پانچ میں سے صرف ایک کو پڑدادا کا نام معلوم تھا۔بعد میں اندازہ لگوایا گیا تو وہ لوگ جنہوں نے ماں باپ کی طرف سے حصہ لیا ہے صرف دوسو کے قریب ہیں۔