خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 190

$1945 190 خطبات محمود جاتی رہے گی اس لئے ہم خود ریاست پر قبضہ کر لیں گے تاکہ ہم دشمن کا مقابلہ کریں اور وہ ہم پر غالب نہ آجائے۔ممکن ہے ہمارے کسی پڑدادا کے زمانہ میں جب ریاست میں کمزوری پیدا ہوئی ہو کسی رشتہ دار نے ایسا کہا بھی ہو۔بہر حال یہ بات میں نے پرانے زمانہ کے متعلق وہاں سنی ہے۔پھر میں وہاں سے چل پڑا۔اُس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دشمن ہمارے نقصان کی فکر میں ہے۔میں آگے آگے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے پیچھے پیچھے ہیں اور آپ کے پیچھے جماعت کے لوگ ہیں۔یہ خواب کا نقشہ ایسا ہی ہے جیسے شیخ احمد صاحب سرہندی نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں آگے آگے ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پیچھے ہیں۔جب انہوں نے اپنا یہ خواب لوگوں کے سامنے بیان کیا تو جہانگیر کے پاس اُس کی شکایت ہوئی اور اس نے سر ہندی صاحب کو گوالیار کے قلعہ میں قید کر دیا کہ یہ شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کرتا ہے۔لیکن آخر اللہ تعالیٰ نے اُس کو توجہ دلائی اور اس نے سید صاحب سے پوچھا کہ اس خواب کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ جرنیل ہمیشہ بادشاہ کے آگے ہی چلا کرتا ہے۔جو جرنیل مقرر ہوتا ہے کیا وہ بادشاہ کو لڑائی میں آگے کیا کرتا ہے یا خود آگے ہو کر لڑا کرتا ہے؟ اسی طرح مجھے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی حفاظت کے لئے تجھے جرنیل مقرر کیا گیا ہے۔تو سر ہندی صاحب کے خواب کی طرح میں رویا میں دیکھتا ہوں کہ میں آگے ہوں میرے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور آپ کے پیچھے جماعت کے افراد ہیں۔چلتے چلتے ایک جگہ ایسی ہے جیسے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے مکانات ہیں۔ان کے مکانات کے پاس سے ہم مکانات میں جانے کے لئے داخل ہوئے ہیں۔اس جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ چوک تک جانے کے لئے دو راستے ہیں۔ایک راستہ کی طرف میں گیا ہوں تو وہ بند ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن نے شرارت کی وجہ سے اسے بند کیا ہے تاکہ ہمیں راستہ نہ ملے اور وہ حملہ کرنے میں کامیاب ہو سکے۔جب دیکھا کہ راستہ بند ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فکر کی آواز سے کہا کہ یہ راستہ تو بند ہے۔اُس وقت میں نے دوسری طرف دیکھ کر کہا یہ راستہ کھلا ہے۔وہ راستہ اس قسم کا ہے