خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 153

$1945 153 خطبات محمود بھی ہمارا ایک وفد گیا اور مسٹر کنگ سے یہ بات کہی کہ اس سلسلہ کو روکا جائے اس سے احمدیوں کی سخت دل آزاری ہوتی ہے۔اور پھر یہ بھی کہا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم بھی لاؤڈ سپیکر لگا کر ان کا جواب دیں گے۔یہ بات سن کر مسٹر کنگ بہت ہنسے اور کہا کہ اچھی بات ہے جب وہ لوگ لگاتے ہیں تو آپ بھی اگر لگائیں گے تو کسی کو اس پر اعتراض کا کوئی حق نہ ہو گا۔اور یہ سوال بھی اگر گورنمنٹ نے اٹھایا تو جماعت احمدیہ ان سرکاری افسروں کو بطور گواہ بلوائے گی اور ثابت کرے گی کہ ہم نے پانچ سال متواتر صبر کرنے کے بعد ایسا کیا ہے۔اور اگر کسی عدالت میں یہ سوال پیش ہوا اور اُس نے کسی قانونی روک کی وجہ سے ان افسروں کو بطور گواہ طلب کرنے سے انکار کیا تو ہم اشتہاروں کے ذریعہ ان افسروں سے اِس کا جواب دریافت کریں گے۔اور اگر وہ جواب نہ دیں گے تو دنیا کے سامنے بات واضح ہو جائے گی اور اس صورت میں بھی فتح ہماری ہی ہو گی۔بہر حال مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ باتیں جو اس افسر نے بیان کیں وہ ہمارے جلسوں میں کہی گئیں یا نہیں یا کس رنگ میں کہی گئیں۔مجھے جو خط ملا ہے اس میں اس افسر کے جو اعتراض نکلے ہیں میں نے ان کے بارہ میں یہ باتیں کہہ دی ہیں اور ایک بار پھر جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ صحیح طریق یہی ہے کہ وہ تبلیغ کو وسیع کریں۔باہر سے جو لوگ ہمیں گالیاں ہی دینے کے لئے آتے ہیں اُن پر ہماری تقریروں کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا اس لئے جن کو مخالفوں کی گالیاں سن کر غصہ آئے اور غیرت جوش مارے وہ تبلیغ کے لئے اپنا کچھ وقت وقف کریں اور ارد گرد کے دیہات میں جا کر تبلیغ کریں جو مولوی اور پنڈت صاحبان یہاں آتے ہی اس لئے ہیں کہ ہمیں غصہ دلائیں اُن پر ہماری تبلیغ کا اثر کیا ہو سکتا ہے۔اور جب اثر نہیں ہو سکتا تو پھر یو نہی گلا پھاڑنے کا کیا فائدہ۔مومن کو جب علم ہو جائے کہ اس کی تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا تو وہ پھر وہاں تبلیغ نہیں کرتا کیونکہ وہاں تو تبلیغ کرنا ایک لغو فعل ہو جاتا ہے اور مومن لغو فعل نہیں کیا کرتا۔اس کے بعد اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔انگریزی میں زیر و آور (Zero Hour ایک محاورہ ہے جو کچھ عرصہ سے جنگی اور فوجی کارروائیوں میں استعمال ہوتا